تہران(نیوز ڈیسک )ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کے لیے تجویز کیے گئے جنوبی راستے کو کسی بھی صورت قبول نہیں کرے گا اور اس آبی گذرگاہ پر اپنی خودمختاری کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔بی بی سی رپورٹ کے مطابق غریب آبادی کا کہنا ہے تھا نے کہا کہ براستہ عمان بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک نیا راستہ تجویز کیا گیا ہے
تاہم ایران کا عمان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کا کوئی ارادہ نہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے پورے علاقے کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔ایران کے نائب وزیرِ خارجہ نے کہا کہ تہران نے ابھی تک اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے تحت امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کیے ہیں اور نہ ہی وہ واشنگٹن سے مذاکرات شروع کرنے کی درخواست کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کی بحالی ایک اہم موضوع رہی ہے۔ اس تجویز کے تحت جہاز عمانی سمندری حدود سے ہوتے ہوئے جنوبی راستے کے ذریعے گزر سکیں گے اور اس کے لیے ایران کی اجازت کی ضرورت نہیں ہو گی۔ تاہم ایرانی حکام اس منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں۔