کیف،ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)یوکرین کے دارالحکومت کیف میں روس کے تازہ میزائل اور ڈرون حملوں میں میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو گئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وسطی اور مشرقی کیف میں بدھ اورجمعرات کی درمیاتی شب 12 سے زائد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور رہائشیوں کو پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہونے والے میٹرو سٹیشنز کی جانب تیزی سے جاتے ہوئے دیکھا گیا ۔
کیف کے میئر نے ٹیلی گرام پر کہا کہ کیف پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بمباری کی جا رہی ہے اور پورے شہر میں دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔روس نے فروری 2022 میں اپنے حملے کے آغاز کے بعد سے یوکرین کے شہروں بشمول کیف پر اپنے میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہ حملہ یوکرین کی فضائیہ کی جانب سے دارالحکومت کے قریب آنے والے بیلسٹک میزائلوں کے بارے میں جاری کردہ انتباہ کے بعد ہوا۔زیلنسکی نے ایک روز قبل انٹیلی جنس اطلاعات موصول ہونے کے بعد ڈبلن کا اپنا دورہ یہ کہتے ہوئے مختصر کر دیا تھا کہ روس ان کے ملک پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ میں اپنے لوگوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ انتہائی احتیاط برتیں، اپنے بچوں اور اپنے اہلخانہ کی حفاظت کریں اور بنکروں میں پناہ لیں۔ان کا کہنا تھا ک روسی یوکرین کے خلاف اس بڑے حملے کی تیاری طویل عرصے سے کر رہے ہیں۔ دوسری جانب عالمی میڈیارپورٹس کے مطابق روس کے تمام علاقوں میں پیٹرول کی شدید کمی محسوس کی جا رہی ہے، جس کے باعث پیٹرول پمپس پر لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔روس نے اپنے ملک میں پیٹرول کی شدید قلت کو دور کرنے کے لیے سمندری راستے کے ذریعے بھارت سے پیٹرول منگوانا شروع کر دیا ہے۔برطانوی خبر رساں ا دنارے کے مطابق، تیل کی صنعت سے وابستہ دو ذرائع نے بتایا کہ یہ قدم یوکرین کی جانب سے روس کے بجلی اور توانائی کے نظام پر کیے جانے والے حملوں کے بعد اٹھایا گیا ہے، جس کی وجہ سے روس کے کارخانوں کو نقصان پہنچا ہے۔
اس وقت روس کے تمام علاقوں میں پیٹرول کی شدید کمی محسوس کی جا رہی ہے، جس کے باعث پیٹرول پمپس پر لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں، لوگوں کو ناپ تول کر محدود پیٹرول دیا جا رہا ہے اور ملک میں پیٹرول کی قیمتیں ریکارڈ حد تک بڑھ گئی ہیں۔اس صورتحال پر روس کے صدارتی محل کریملن نے بھی تصدیق کی ہے کہ روس دوسرے ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے اور مناسب قیمتوں پر پیٹرول منگوانے کے لئےبات چیت کر رہا ہے۔تیل کی صنعت سے وابستہ ایک ذریعے کے مطابق اب تک بھارت سے کم از کم 60 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول روس کے لیے روانہ کیا جا چکا ہے، جبکہ ایک اور ذریعے نے بتایا کہ 30 سے 40 ہزار ٹن پیٹرول سے لدے دو بڑے بحری جہاز روس بھیجے گئے ہیں۔
ایک اور ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ روس اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہر مہینے مختلف ممالک سے کل چار لاکھ ٹن پیٹرول منگوانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں اس کا پڑوسی ملک بیلاروس بھی شامل ہے جو پہلے ہی روس کو پیٹرول بھیج رہا ہے۔گرمیوں کے موسم میں جب پیٹرول کی مانگ بہت زیادہ ہوتی ہے، تو روس میں روزانہ کم از کم ایک لاکھ دس ہزار ٹن پیٹرول استعمال ہوتا ہے۔روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے بھی وزرا اور سرکاری حکام کے ساتھ ایک ملاقات میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ یوکرین کے ڈرون حملوں کی وجہ سے کچھ علاقوں میں پیٹرول کی کمی ہوئی ہے، لیکن روس اس مسئلے کو حل کر رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جون کے مہینے میں بھارت نے روس سے روزانہ 27 لاکھ بیرل خام تیل خریدا، جو بھارت کی کل ضرورت کا آدھے سے زیادہ بنتا ہے۔بھارت نے یہ قدم آبنائے ہرمز کا سمندری راستہ بند ہونے کی وجہ سے دوسرے ممالک سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے بعد اٹھایا ہے۔