وفاقی آئینی عدالت

خیبرپختونخوا میں ایم اے پاس افراد بھی خاکروب کےلئے درخواست دے رہے ہیں، جسٹس حسن اظہر کے ریمارکس

اسلام آباد(کورٹ نیوز )وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں خاکروبوں کی بھرتی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اس بات کا جائزہ لینے کے لئے کہ بھرتیاں قانون کے مطابق کی جا رہی ہیں یا نہیں، صوبے میں سال 2016 سے اب تک ہونے والی تمام بھرتیوں کا ریکارڈ طلب کر لیا۔

سماعت کے دوران خاکروب کی آسامیوں پر ایم اے پاس افراد کے امیدوار ہونے کا انکشاف ہوا۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سیاسی مداخلت پر پابندیوں کے دوران بھرتیاں کی گئیں، ایم پی اے کے خط پر من پسند افراد کو بھرتی کیا گیا۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ ایم پی اے کا خط جعلی ہے اس پر نہ کوئی دستخط ہیں نہ ہی ریفرنس نمبر و مہر، ایسے جعلی کاغذ تو میں یہاں کے کمپویٹر سے بھی نکال دوں۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ جعلی کاغذات کم از کم ہمارے سسٹم سے تو نہ نکالیں، جس پر کمرہ عدالت میں قہقہے بکھر گئے۔

وکیل درخواست گزار کے پابندی کے دوران بھرتیاں کیے جانے کے دلائل پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر آپ کا موکل بھرتی ہو جاتا تو بھی پابندی کی خلاف ورزی تو ہونی تھی۔وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دئیے کہ آپ کے موکل کو بھرتی کر بھی لیں تو ایم اے پاس بندا صفائی تو کریگا نہیں۔جسٹس رضوی نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایم اے پاس افراد بھی خاکروب کی ملازمت کےلئے درخواست دے رہے ہیں جو کلف والے کپڑے پہن کر گھومتے ہیں، جبکہ شہر میں جگہ جگہ گندگی موجود ہوتی ہے اور پڑھے لکھے خاکروب کام نہیں کرتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک درخواست گزار مدرسے کا کوالیفائیڈہے، لوگوں کی مجبوری دیکھیں کہ کیسے کیسے لوگ خاکروب بھرتی ہونا چاہتے ہیں، لوگوں کے پاس نوکری کے مواقع نہ ہونا بھی ایک المیہ ہے۔جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ درجہ چہارم پر 2 لوگ ایڈ جسٹ کر لیں تو کیا فرق پڑے گا، جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزاروں کی عمریں 47 سال ہوچکی ہیں، اتنی رعایت قانونی طور پر ممکن نہیں۔عدالت نے مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں