عاصم افتخار

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پاکستان کی مضبوط سفارت کاری کی فتح ہے، عاصم افتخار

نیویارک(نیوز ڈیسک )اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقبل مندوب عاصم افتخارنے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو مضبوط اور پرعزم سفارت کاری کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کے لیے اب بھی ایک فریم ورک فراہم کر رہا ہے۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پاکستان کے اس دیرینہ موقف کی عکاسی کرتی ہے کہ علاقائی تنازعات صرف سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کا محرک علاقائی اور عالمی امن کے لیے وابستگی ہے جس کا مقصد جانیں بچانا، کشیدگی کو کم کرنا اور ایک پائیدار باہمی افہام و تفہیم اور حتمی معاہدے کی جانب لے جانے والے منظم مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے۔اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے 17 جون، 2026 کو دستخط کیے تھے۔ عاصم افتخار نے مزید کہا کہ پاکستان کی قیادت اس معاہدے کے تحت سفارتی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لئے مذاکرات کرنے والے فریقین، علاقائی شراکت داروں اور دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں رہی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے نقطہ نظر سے یہ حقیقت کہ بات چیت جاری ہے اور فریقین مذاکرات کی میز پر موجود ہیں، ایک اہم اور مثبت نتیجہ ہے، ہم کسی بھی قسم کی کشیدگی کو روکنے اور سفارتی رابطے کو برقرار رکھنے کےلئے بات چیت اور اعتماد سازی کے اقدامات میں سہولت فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ فریقین کے درمیان رابطے کے ذرائع کھلے رہے، اور پاکستان خطے بھر میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کےلئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جی سی سی ممالک کے خلاف حملوں کی واضح طور پر مذمت کرتا رہا ہے اور ایک بار پھر بحرین اور کویت میں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، مزید کسی بھی قسم کی کشیدگی کے علاقائی اور بین الاقوامی امن اور سکیورٹی پر سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔پاکستان کے مستقل مندوب نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرنے پر قطر، سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور چین کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے بات چیت ہی واحد پائیدار راستہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں