ایران

ایران کی بحرین کو اشتعال دلانے پر مزید شدید حملوں کی دھمکی، خلیجی ملکوں کو مشترکہ سیکیورٹی نظام بنانے کی پیشکش

تہران(انٹرنیشنل ڈیسک )ایران نے بحرین کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسے اشتعال دلایا گیا تو تہران بحرین پر پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ حملہ کرے گا جبکہ خلیجی ملکوں کو مشترکہ سیکیورٹی نظام بنانے کی پیشکش بھی کی ہے ۔

ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر علی اکبر ولایتی نے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز سے گفتگو میں کہا کہ بحرینی حکام کو سنجیدہ وارننگ دی جا رہی ہے کہ وہ اپنی حدود کو پہچانیں، اپنی قسمت کے ساتھ ایسا کھیل نہ کھیلیں اور ایران کو سخت فیصلے کرنے پر مجبور نہ کریں۔ایران نے دعوی کیا ہے کہ اس نے ہفتہ اور جمعہ کے روز بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے اڈے کو امریکی حملوں کے جواب میں نشانہ بنایا، تہران کا موقف ہے کہ امریکہ خطے میں قائم اپنے فوجی اڈوں کو ایران پر حملوں کے لئے استعمال کرتا ہے۔

دوسری جانب خلیجی ممالک اس دعوے کی تردید کرتے ہیں، بحرین نے حالیہ ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں اور انہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام کے مواقع کو نقصان پہنچایا ہے۔بحرین، جہاں شیعہ آبادی کی بڑی تعداد موجود ہے، نے گزشتہ چند ماہ کے دوران درجنوں افراد کو ایران کے ساتھ مبینہ فوجی روابط رکھنے کے الزام میں گرفتار بھی کیا ہے۔بحرین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے اور ایران کے حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے خلیجی ملکوں کو مشترکہ سیکیورٹی نظام بنانے کی پیشکش کر تے ہوئے واضح کیا کہ خطے کی سلامتی کا فیصلہ علاقائی ممالک خود کریں۔ نئے سیکیورٹی معاہدے میں اقتصادی تعاون بھی شامل ہونا چاہیے جبکہ بیرونی فوجی طاقتوں کو سیکیورٹی نظام سے باہر رکھا جائے ۔ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو یقینا خلیجی ممالک ایک مٹھی بن کر سامنے آئیں گے پھر امریکا یا کسی اور ملک سے مدد لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ایرانی وزیرخارجہ نے یہ بھی واضح کردیا کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک بحال کرنے کی ذمہ داری صرف تہران کی ہے ۔

کسی بھی دوسرے فریق کی مداخلت معاملات کو مزید پیچیدہ بنائے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کا لبنان سے انخلا اور حملے روکنا امریکا کے ساتھ عبوری معاہدے کا لازمی حصہ ہے ۔ معاہدے کی خلاف ورزی کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔عباس عراقچی نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر نیک نیتی سے عمل درآمد کے خواہاں ہیں، امریکا اوراسرائیل نے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی، خطے کومحفوظ رکھنے کےلئے تمام ممالک کو کام کرنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں