اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) پی ٹی آئی کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے اراکین اسمبلی کے احتجاج کی کال ناکام ہوگئی۔تفصیل کے مطابق گزشتہ رات اجلاس میں تمام پارلیمنٹیرنز کو پیر کو دس بجے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچنے کی ہدایت کی گئی تھی تاہم صرف چھ پارلیمنٹیرینز اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے جن میں علی محمد خان، سینیٹر مشعال خان یوسفزائی، سینیٹر فلک ناز چترالی، شفقت اعوان اور جنید اکبر شامل تھے۔ سلمان اکرم راجہ بھی کچھ دیر کےلئے ہائیکورٹ کے باہر پہنچے اس کے بعد وہ بھی روانہ ہوگئے، ہائیکورٹ کے باہر پولیس کی نفری اور قیدی وینز بھی موجود تھیں۔احتجاج کی کال کے باوجود ہائیکورٹ نہ پہنچنے پر سلمان اکرم راجہ اپنے ہی اراکین اسمبلی پر پھٹ پڑے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے گڑگڑا کر ان سے التجا کی تھی کہ ہائیکورٹ کے باہر پہنچیں، کہاں ہیں یہ سارے لوگ؟ کیوں نہیں آئے؟، میں سب کے نام سامنے لاﺅں گا۔انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ 5 اگست کے احتجاج کے موقع پر بھی جو لوگ سامنے نہیں آئے تھے، ان سب کے بارے میں بھی انہیں مکمل علم ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی خیبرختونخوا کے صدر اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر خان نے پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کی جانب سے پارلیمنٹیرینز کی عدم موجودگی پر کئے گئے شکوے کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ رات گئے ارکان کو بلا کر ان سے فوری طور پر پہنچنے کی توقع کرنا مناسب طریقہ نہیں۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جنید اکبر خان نے کہا کہ اگر سماعت کے وقت دوپہر 12 بجے تک کوئی پارلیمنٹیرین نہ پہنچتا تو ان سے ضرور پوچھا جاتا کہ وہ کیوں نہیں آئے، تاہم رات 12 بجے جب لوگ سو چکے ہوں، اس وقت ارکان کو بلانےکےلئے پیغام بھیجنا مناسب نہیں، پارٹی کے ارکان کو بروقت اطلاع دی جانی چاہیے۔5 اگست کو ہونے والے احتجاج کے حوالے سے جنید اکبر خان نے کہا کہ خیبرپختونخواہ میں ہونے والے احتجاج سے سب آگاہ ہیں، ارکانِ پارلیمنٹ نے احتجاج میں شرکت کےلئے لوگوں کو متحرک کیا، ان کےلئے گاڑیوں کا انتظام کیا اور عوام کو احتجاج میں لانے میں اپنا کردار ادا کیا۔جنید اکبر خان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں پارٹی پارلیمنٹیرینز نے احتجاج کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کی ہیں اور ان کی کوششوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے لیکن بدقسمتی سے جو لوگ پارلیمنٹ سے باہر ہیں، ان کا سارا مسئلہ پارلیمنٹیرینز کے ساتھ ہے۔