بیروت(انٹرنیشنل نیوز)جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں 7 افراد جاں بحق ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں کے مطابق جنوبی لبنان کے گاں انصار میں ایک مکان کو اسرائیلی طیاروں نے ہفتے کی صبح نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق اور 3 دیگر زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق یہ حملہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے امن معاہدے پر اتفاق کے بعد مہلک ترین حملوں میں سے ایک ہے۔معاہدے کے مطابق اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے مقبوضہ علاقوں میں اس وقت تک موجود رہے گی جب تک لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا اور لبنانی فوج ان علاقوں کا کنٹرول سنبھال نہیں لیتی جبکہ حزب اللہ نے ان شرائط کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔اسرائیلی فوج نے اس حملے کے حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ جنوبی لبنان کے ایک علاقے میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، یہ کارروائی اس کے فوجیوں کے خلاف ہونے والی سرگرمیوں کے جواب میں کی گئی۔
یاد رہے کہ رواں برس کے آغاز میں حزب اللہ نے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے دو روز بعد اسرائیل پر حملے کیے تھے جس کے جواب میں اسرائیل نے لبنان پر بڑے پیمانے پر حملوں کا آغاز کرتے ہوئے جنوبی لبنان کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کرلیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ شمالی اسرائیل کو مزید حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی فوج وہاں موجود رکھے گا۔دوسری جانب حزب اللہ سربراہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ حکومت لبنانی فوج کو اسرائیلی دبا میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایک بیان میں نعیم قاسم نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کے ساتھ نام نہاد فریم ورک معاہدہ اسرائیلی احکامات کا مجموعہ ہے، معاہدے کے تحت اسرائیل کو وہ سب کچھ دیا جا رہا ہے جو وہ چاہتا ہے، معاہدے میں لبنان اپنی خودمختاری سے دستبردار ہو رہا ہے۔نعیم قاسم نے کہا کہ سات ادوار پر مشتمل مذاکرات میں لبنان کو کچھ حاصل نہیں ہوا، لبنانی حکام مذاکراتی طریقہ کار پر نظرثانی کریں، لبنانی فوج کو اسرائیلی حملوں اور دبا کا سامنا ہے جو قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل لبنانی فوج کی تعیناتی اور کارروائیوں کی نگرانی کے لیے تحقیقاتی کمیٹی مسلط کر رہا ہے، موجودہ طریقہ کار جاری رہا تو لبنان کی خودمختاری اور وقار مزید متاثر ہوگا۔