اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھارت کے آزاد کشمیر انتخابات سے متعلق الزامات اوربیانات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت کوآزاد کشمیر کے جمہوری عمل پر تبصرہ کرنے کا کوئی اخلاقی و قانونی حق نہیں،بھارت میں اقلیتوں پر مظالم انتہائی تشویشناک ہیں،پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کیلئے فریقین سے رابطے میں ہے، خطے میں امن کےلئے برادر ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی تعاون جاری رہے گا ،
پاکستان بنگلادیش کے اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا، ڈونرز یقینی بنائیں کہ افغانستان کودینے والی مالی امداد دہشتگردی میں استعمال نہ ہو،ہم افغانستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے ،افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کو بھارتی مالی معاونت حاصل ہے،افغانستان کو اچھے تعلقات یادہشت گردی کی حمایت میں کسی ایک کاانتخاب کرناہوگا،غزہ میں امن فوج سے متعلق کوئی باضابطہ تجویز سامنے آئی تو پاکستان جائزہ لیا جائےگا،پاکستان نے القدس شریف کو فلسطین کا دارالحکومت بنانے کے موقف کی توثیق کی ہے۔
ان خیالات کااظہار ترجمان دفترخارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کیا ۔ترجمان دفترخارجہ کہنا تھا کہ پاکستان بنگلا دیش کی حالیہ اندرونی پیش رفت سے آگاہ ہے،پاکستان بنگلا دیش کی حالیہ اندرونی پیش رفت پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گا، بنگلادیش کی سابق وزیرِ اعظم کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔ پاکستان دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا،بھارت سے دیا گیا بیان بھارت اور بنگلا دیش کا باہمی معاملہ ہے۔بنگلا دیشی عوام اپنے معاملات آزادانہ طور پر حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،پاکستان بنگلا دیش کی خودمختاری اور عوام کے آزادانہ فیصلوں کا احترام کرتا ہے،بنگلا دیش کے ساتھ ترقی اور باہمی تعاون جاری رکھنے کےلئےپرعزم ہیں۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ گزشتہ روز یوم استحصال کشمیر منایاگیا،مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں،بھارت کے 5اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کی مذمت کی گئی۔
وزیرخارجہ اسحاق ڈار سعودی عرب کے دورے پرگئے ہیں،وزیراعظم 8اگست تک سعودی عرب کادورہ کر رہے ہیں ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی وزیراعظم شہبازشریف کے ہمراہ ہوں گے،وزیراعظم شہبازشریف ،شہزادہ محمدبن سلمان سے ملاقات کریں گے،دوطرفہ تعلقات،باہمی دلچسپی کے ا موراورتعاون کے شعبوں پرگفتگوہوگی۔وزیراعظم کا دورہ پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کا مظہر ہے،دورے کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور تزویراتی تعاون کو فروغ دینا ہے،خلیجی خطے میں کشیدگی کے پس منظر میں وزیراعظم کا دورہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔
طاہر اندرابی نے مزید بتایا کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان مشترکہ تجارتی کمیٹی کا اجلاس کینبرا میں منعقد ہوا،جس میں سیاسی، تجارتی، اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا کیا، دونوں ممالک نے دوطرفہ شراکت داری مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیرخارجہ اسحاق ڈار اورایرانی ہم منصب عباس عراقچی کاٹیلی فونک رابطہ ہوا،آبنائے ہرمز کے مسئلے کے حل میں سلطنتِ عمان نے موثر کردار ادا کیا،وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے اردن کا اہم دورہ کیا،پاکستان نے فلسطینیوں کے حق خودارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعادہ کیا۔
پاکستان نے القدس شریف کو فلسطین کا دارالحکومت بنانے کے موقف کی توثیق کی،اسحاق ڈار کی اردن، ترکیہ، مصر، الجزائر، عراق اور صومالیہ کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقاتیں ہوئیں،آر فور ممالک نے فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق اور آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعادہ کیا۔ کی رہائی کے حوالے سے ہماری کوششیں جاری ہیں،پاکستان صومالی حکومت اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں امن کے لیے حماس کے غیر مسلح ہونے کے ساتھ اسرائیل کا مقبوضہ علاقوں سے انخلا بھی لازمی ہے، اسرائیل پر اپنی بین الاقوامی ذمے داریاں پوری کرنے اور غزہ سے انخلا کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں امن فوج یا امن نافذ کرنے والی فورس کی تعیناتی پر بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے، غزہ میں امن فوج سے متعلق کوئی باضابطہ تجویز سامنے آئی تو پاکستان جائزہ لے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان انسدادِ دہشت گردی مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں ہوا، جس میں دہشت گردی کے خلاف تعاون اور علاقائی امن و استحکام کے لئے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا،دہشت گرد تنظیموں کے سہولت کار نیٹ ورکس کے خاتمے کے لئے مشترکہ اقدامات پر گفتگوہوئی۔دونوں ممالک نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف تعاون جاری رکھنے پراتفاق کیا،داعش خراسان ، القاعدہ،ٹی ٹی پی، بی ایل اےاور اس سے منسلک گروہوں کا بھی ذکر کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی مذمت کرتاہے،کشمیریوں کو یواین قرار دادوں کے مطابق حق رائے کا حق ملنا چاہیے،بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے،عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کانوٹس لے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ایران امریکا بحران کے حل کی ہر کوشش کی حمایت کرتاہے،آبنائے ہرمز بحران کے حل سے مزید مزاکرات کے لئے سازگار ماحول پیدا ہوگا،پاکستان ایران امریکا تنازع کے حل کے لئے کردار کر رہا ہے۔
پاکستان فریقین کیساتھ رابطہ میں بھی ہے،ثالثی طویل عمل ہے،امن کےلئے مربوط کوششیں جاری ہیں،آبنائے ہرمز کے بحران میں برادر ممالک نے سہولت کاری کا موثر کردار ادا کیا۔عمان نے آبنائے ہرمز کے تنازع میں مثبت اور قابلِ تحسین کردار ادا کیا،پاکستان خطے میں امن کےلئے برادر ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی تعاون جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی ہے، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ کو بھی دعوت دی گئی یا نہیں، تصدیق قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کرے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں، تجارتی بحری جہازوں پر حملے بین الاقوامی قانون اور بحری سلامتی کی خلاف ورزی ہیں۔ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی تجارتی بحری راستوں کے تحفظ اور سلامتی کی حمایت جاری رکھے گا، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون بدستور جاری رہے گا۔افغانستا ن کے حوالے سے ترجمان دفترخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ڈونرز یقینی بنائیں کہ افغانستان کودینے والی مالی امداد دہشتگردی میں استعمال نہ ہو،ہم افغانستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے،وہ ہمارے بہن بھائی ہیں،افغانستان کو اچھے تعلقات یادہشت گردی کی حمایت میں کسی ایک کاانتخاب کرناہوگا۔
درخشاں اور دیگر جگہوں پر طالبان اور حزب اختلاف کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں،ہمیں سمجھنا ہو گا کہ افغانستان سے دہشت گرد گروہ پورے خطے میں موجود ہیں ،افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کو بھارتی مالی معاونت حاصل ہے،کالعدم بی ایل اے کوبھی بھارت مالی امداد دے رہا ہے۔ہمارا امریکا کے ساتھ اچھا انٹیلی جنس تعاون موجود ہے ۔ صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ صومالیہ سے اپنے یرغمال شہریوں کی فوری رہائی ممکن نہ ہونے پر ہم نہایت افسردہ اور غمگین ہیں، لیکن یہ معاملہ ہمارے ریڈار پر مکمل طور پر زندہ ہے اور ان کی محفوظ رہائی کے لیے تمام ممکنہ کوششیں مسلسل جاری ہیں۔