لاہور،کراچی،پشاور،کوئٹہ(نیوز ڈیسک )ملک بھر میں بادلوں کی دھواں دھار اننگز جاری ہے، لاہور میں وقفے وقفے سے موسلادھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے، فصلوں کو نقصان پہنچا،کئی علاقوں میں فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی سپلائی معطل ہو گئی،ڈیرہ غازی خان میں قبائلی علاقوں میں بارش کے بعد برساتی ندی نالوں میں پانی کا بہاﺅ بڑھ گیا، یکبئی روڈ، درگ لہڑ ندی اور لینڑی لہڑ ندی میں طغیانی آگئی،مختلف حادثات میں میں خواتین و بچوں سمیت مزید 6افراد ابحق اور کئی زخمی ہوگئے ۔ لاہور کے علاقے گڑھی شاہو ریلوے کالونی نزد فاروقیہ مسجد کے پاس سے گھر کی چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر خواتین اور بچوں سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔
ریسکیو1122 کے مطابق گھر کی چھت مٹی اور ٹی ار گارڈر سے بنی ہوئی تھی، اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم نے ملبے تلے دبے چاروں افراد کو نکال لیا گیا ہے، ہلاک ہونے والوں میں 45 سالہ مبین ، 40 سالہ اسکی اہلیہ اور 11 سالہ اسکی ایک بیٹی فاطمہ شامل ہیں۔ریسکیو حکام نے بتایا کہ چھت گرنے کے واقع میں 14 سالہ ایمل زخمی ہوئی، جس کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، لاہور مزید کسی شخص کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاع نہیں جبکہ اپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ قصور میں مسلسل بارش کے باعث مکان کی چھت گر گئی جس کے نتیجے میں 7 سالہ بچے سمیت 2 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ واقعہ قصور کے نواحی علاقے ڈھنگ شاہ میں پیش آیا، جہاں رات بھر بارش کی وجہ مکان کی چھت گر گئی، جاں بحق ہونے والوں میں ایک 7 سالہ بچہ اور 60 سالہ بزرگ شخص شامل ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ واقعہ میں خواتین سمیت 3 افراد زخمی ہو گئے، زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد دے کر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ بہاولنگر میں سرکلر روڈ پر بارش کے باعث کرنٹ لگنے سے ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ جاں بحق شخص کی شناخت عمر کے نام سے ہوئی ہے جس کی عمر 60 سال تھی، عمر گھر کے باہر کھڑا تھا جب اس نے بند دکان کے شٹر کو چھو لیا، جس میں کرنٹ تھا۔ریسکیو حکام کے مطابق عمر کو کرنٹ لگنے کے بعد تشویشناک حالت میں ڈسٹرکٹ ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکا، اور دم توڑ گیا۔پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقوں میں بارشوں کے بعد ندی نالے بپھر گئے ، لوگ محفوظ مقامات پر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔
ڈیرہ غازی خان میں قبائلی علاقوں میں بارش کے بعد برساتی ندی نالوں میں پانی کا بھا بڑھ گیا، یکبئی روڈ، درگ لہڑ ندی اور لینڑی لہڑ ندی میں طغیانی آگئی۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق طغیانی سے تونسہ موسی خیل روڈ گنگیالی کے مقام پر زیرآب آگیا، دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ادھر سرگودھا میں بھی بارشوں سے دریاں میں طغیانی ، نالے اوور فلو ہوگئے ، پانی کھیتوں اور آبادیوں میں داخل ہوگیا ۔ متاثرہ علاقوں میں فصلوں کو نقصان پہنچا ۔ادھرکر اچی میں بھی بادل برستے رہے، گلشن اقبال، صدر، محمود آباد، ناظم آباد میں تیز بارش ہوئی، لیاری، گلشن حدید، گڈاپ، گرو مندر، جمشید روڈ، بلدیہ، نیول کالونی، مواچھ گوٹھ میں بھی رم جھم ہوئی۔بارش کی بوندیں پڑتے ہی کے الیکٹرک کے 100 سے زائد فیڈر ٹرپ کر گئے، متعدد علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ24گھنٹوں میں شہر میں مطلع جزوی ابر آلود جبکہ موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔ اس دوران شہر کے چند مقامات پر ہلکی بوندا باندی کا بھی امکان ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کعہ شہر کی فضا میں ہوا میں نمی کا تناسب 78 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث حبس کی کیفیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس وقت جنوب مغرب کی جانب سے ہوائیں 7 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔واضح رہے کہ ملک بھر میں بارشوں سے گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 9 افراد جاں بحق، 54 زخمی ہوئے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق 26 جون سے 23 جولائی تک مجموعی طور پر 81 افراد جان کی بازی ہار گئے، 241 افراد زخمی ہوئے۔دوسری جانبمحکمہ موسمیات نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تیز ہواں، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔خیبر پختونخوا میں 27 جولائی تک بارش کی پیشگوئی ہے۔ پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کا کہنا ہے کہ چترال، دیر، سوات، شانگلہ، بٹگرام، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز ہواﺅ ں اور آسمانی بجلی سے فصلوں اور کمزور تعمیرات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ بجلی کے کھمبوں، سائن بورڈز اور سولر پینلز کو تیز ہواں سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔حکام کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف حصوں میں آسمان پر جزوی طور پر بادل چھائے رہیں گے، جبکہ صوبے کے میدانی اور پہاڑی علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔بارش کا یہ امکان پشاور، نوشہرہ، مردان، چارسدہ، صوابی، چترال، دیر، سوات، شانگلہ، بونیر، ملاکنڈ، کوہستان، بٹگرام، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں موجود ہے۔اس کے علاوہ باجوڑ، مہمند، خیبر، کوہاٹ، کرک، ہنگو، کرم، اورکزئی، لکی مروت، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں بھی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔بارش کے ساتھ ساتھ محکمہ موسمیات نے ممکنہ خطرات کے حوالے سے بھی خبردار کیا ہے۔محکمہ موسمیات کے ترجمان نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور تودے گرنے کا خدشہ ہے، جبکہ ندی نالوں میں طغیانی اور فلیش فلڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بارش کے نتیجے میں پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، مردان اور صوابی کے نشیبی علاقے زیرِ آب آنے کا خدشہ ہے۔ مانسہرہ میں سیف الملوک جھیل روڈ کے اطراف پہاڑی مقامات پر شدید بارش اور سیلابی ریلے سے ناران کو جھیل سیف الملوک سے ملانے والی سڑک بدستور بند ہے۔سیلابی ریلوں سے جنوبی وزیرستان لوئر میں 3 کاز وے بہہ گئے ۔ استور ویلی روڈ کو بند ہوئے 6 روز ہو گئے ، بحالی کا کام جاری ہے۔بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہِ بلتستان بند ہے اور زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔شہریوں کو کھانے پینے کی اشیا اور پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا سامنا ہے۔ادھر بلوچستان کے بھی بیشتر اضلاع میں گرج چمک، آندھی اور تیز ہواﺅ ں کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
جن علاقوں میں بادل برسنے کی توقع ہے ان میں کوئٹہ، نصیر آباد، جھل مگسی، جعفر آباد، ڈیرہ بگٹی، پنجگور، آواران، قلات، خضدار، ژوب، موسی خیل، شیرانی، لورالائی، بارکھان، کوہلو، قلعہ سیف اللہ، پشین اور لسبیلہ شامل ہیں۔دریں اثنادریائے راوی میں کمالیہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ایس ڈی او ایریگیشن کے مطابق دریائے راوی کے مل فتیانہ کے مقام سے 50 ہزار کیوسک پانی کا ریلہ گزر رہا ہے۔
انتظامیہ نے مل فتیانہ، کوٹ پٹھانہ، اڈا کلیرا، موضع تارا، حویلی مائی صفوراں، کوٹ کرم شاہ اور ڈیڈھی میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے۔سیلابی پانی کے باعث مل فتیانہ، خان دا چک، جھلار سگلہ، شہابل شاہ، بستی پیپل والا اور موضع درسانہ میں فصلیں زیرِ آب آ گئیں۔ایس ڈی او ایریگیشن نے دریائی بیلٹ میں رہائش پذیر افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔