عظمی بخاری

بلاول کو نفرت کی سیاست زیب نہیں دیتی،لاڑکانہ کے نوابوں کو پنجاب کی ترقی ہضم نہیں ہورہی، عظمی بخاری

لاہور(نیوز ڈیسک)وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو کو نفرت کی سیاست زیب نہیں دیتی،لاڑکانہ کے نوابوں کو پنجاب کی ترقی ہضم نہیں ہورہی، پیپلز پارٹی کو پنجاب سے بغض اور نفرت ہے کیونکہ یہاں کے وسائل عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیے جا رہے ہیں،اگر پنجاب میں پیپلز پارٹی چوتھے نمبر کی جماعت ہے تو اس میں مسلم لیگ ن کا کوئی قصور نہیں۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماں اور ترجمانوں کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کیا ۔اپنے بیان میں عظمی بخاری نے کہا کہ پنجاب کی ترقی اور خوشحالی سے جلنے والے جلتے رہیں گے جب کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی حکومت کو ابھی صرف دو سال ہوئے ہیں اور اس مختصر عرصے میں صوبے میں نمایاں ترقیاتی اقدامات کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے ترقیاتی منصوبوں اور وسائل کو اٹک سے رحیم یار خان اور راولپنڈی سے وہاڑی تک پہنچایا ہے تاہم لاڑکانہ کے نوابوں کو یہی بات ہضم نہیں ہو رہی۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر پنجاب میں پیپلز پارٹی چوتھے نمبر کی جماعت ہے تو اس میں مسلم لیگ ن کا کوئی قصور نہیں، بلکہ پنجاب کے عوام مسلم لیگ ن کی کارکردگی پر اعتماد اور اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔

عظمی بخاری نے کراچی کے میئر مرتضی وہاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ لاہور میں سیکھنے آئے تو پنجاب حکومت نے اپنے دروازے ان کے لئے کھول دیئے۔ مسلم لیگ ن کی خواہش ہے کہ جس طرح پنجاب میں ترقی اور خوشحالی آئی ہے اسی طرح سندھ بھی ترقی کرے۔انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نفرت اور تقسیم کی سیاست زیب نہیں دیتی، بلاول بھٹو ایک بڑی سیاسی جماعت کے چیئرمین ہیں اس لیے انہیں اپنے منصب اور عہدے کا خیال رکھنا چاہیے۔وزیر اطلاعات پنجاب نے سندھ حکومت کے ترجمانوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا سندھ میں ترجمانوں کی پوری فوج صرف پنجاب پر تنقید کرنے کے لئے رکھی گئی ہے، سندھ کے ترجمانوں نے کبھی اپنی حکومت کی کارکردگی عوام کے سامنے نہیں رکھی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر سندھ حکومت کی کارکردگی واقعی قابل رشک ہوتی تو سندھ کے عوام مریم نواز کے سندھ کی وزیراعلی بننے کی دعائیں نہ مانگتے۔ پیپلز پارٹی کو پنجاب حکومت پر تنقید کے بجائے سندھ میں عوامی مسائل کے حل اور اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں