اسلام آباد،لاہور،پشاور،کراچی،گلگت(نیوز ڈیسک ) ملک کے بالائی حصوں بالخصوص خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور ہزارہ ڈویژن میں موسلا دھار بارشوں اور سیلابی ریلوں نے شدید تباہی مچائی ، ندی نالوں میں طغیانی آگئی ، نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے، شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامناہے، گلگت بلتستان کے ضلع روندو میں گلیشیئرز کے سے پگھلنے سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ،خیبرپختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں چھتیں گرنے، دیواریں منہدم ہونے اور پانی کے تیز بہا ﺅ میں بہہ جانے جیسے حادثات میں 12افراد جاںبحق اور 14زخمی ہوگئے ، محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے،نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارتی(این ڈی ایم اے)نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کےلئے فلیش فلڈ کا الرٹ جاری کر دیا ۔
تفصیل کے مطابق پنجاب کے مختلف شہروں میں موسلادھار بارشوں نے جل تھل ایک کر دیا۔لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں موسلا دھار بارش سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا،سٹرکیں اور گلیاں تالاب کا منظر پیش کررہی ہیں۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش نشتر ٹاﺅ ن میں 42.2 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ ایئرپورٹ پر 30، واسا ہیڈ آفس گلبرگ میں 2.2، اپر مال میں 12.6، جوہر ٹان میں 20.6، ڈیفنس روڈ پر 3.4، اور کاہنہ میں 6.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ گوجرانوالہ میں تیزبارش کے باعث جی ٹی روڈ،سیالکوٹ روڈ اور گوندلانوالہ روڈ سمیت متعددشاہراہوں اور نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا ہوگیا، ڈسکہ میں بھی تیزبارش سےموسم خوشگوار ہوگیا اور درجہ حرارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔حافظ آباداورگردونواح میں مسلسل موسلادھاربارش کے باعث سڑکیں،گلیاں اور محلے پانی میں ڈوب گئے، جس سے معمولاتِ زندگی متاثرہوئے۔
بھیرہ اورگردونواح میں موسلادھار بارش کےباعث متعدد نشیبی علاقے زیرِآب آگئے،جبکہ کلرکہار میں ہلکی اورتیز بارش کے سلسلے نے گرمی کا زور توڑ دیا،کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا۔ڈیرہ غازی خان میں آندھی اور بارش سے جہاں موسم خوشگوار ہوا وہیں نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا اور بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم شدید گرم اور مرطوب رہا، جہاں نوکنڈی میں درجہ حرارت 47، سبی میں 45 اور کوئٹہ میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، تاہم قلات، خضدار، ژوب، لورالائی اور بارکھان سمیت چند علاقوں میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبرپختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تیز بارشوں سے حادثات میں 12 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں 5 بچے اور ایک خاتون بھی شامل ہے۔نقصانات پشاور، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، چترال لوئر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تورغر اور کرم میں ہوئے۔
گزشتہ روز مردان میں مکان کی چھت گرنے سے دو بچے زندگی کی بازی ہار گئے اور ان کی ماں اور بہن شدید زخمی ہوئیں، جبکہ لنڈی کوتل میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والی گاڑی سے تین افراد کی لاشیں نکالی گئیں۔ دوسری طرف وادی نیلم میں کلاڈ برسٹ کے باعث آنے والی طغیانی نے 25 دکانیں، ایک اسکول اور چھ مکانات تباہ کر دئیے جس سے تقریبا 25 ہزار کی آبادی محصور ہو کر رہ گئی ہے۔شدید بارشوں کے باعث نوشہرہ کے علاقے اکوڑہ خٹک اور صاحبزادہ ٹان میں فلیش فلڈ کی صورتحال پیدا ہو گئی، جہاں ریسکیو 1122 کی واٹر ریسکیو ٹیموں نے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے سیلابی ریلے میں محصور 12 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ اس کے علاوہ آدم زئی شیٹ گلاس فیکٹری کے قریب پھنسے مزید چھ افراد کو بھی بحفاظت نکال لیا گیا۔
اس ریسکیو آپریشن کے حوالے سے ریسکیو 1122 نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ملک اشفاق حسین نے تمام کارروائی کی خود نگرانی کی، جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف اعجاز اختر بھی موقع پر موجود رہے۔ہزارہ ڈویژن اور کاغان ویلی میں بھی طوفانی بارشوں سے تین رابطہ پل بہہ گئے ہیں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم راستے بند ہو چکے ہیں جنہیں کھولنے کے لیے بھاری مشینری کام کر رہی ہے۔ایبٹ آباد میں شاہراہِ ریشم پانی جمع ہونے سے جھیل کا منظر پیش کر رہی ہے۔ ضلع ہری پور میں دوڑ ندی میں 13 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے۔ صورتحال کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ہری پور انتظامیہ نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے اپنے بیان میں کہا کہ برساتی نالوں کے اطراف موجود تمام افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے۔ اسلام آباد، جہلم اور نوشہرہ میں بھی بارش ہوئی۔ اسلام آباد کے ندی نالوں میں بھی طغیانی کی صورتحال ہے۔ محکمہ موسمیات نے 24جولائی تک موسلادھاربارشوں کی پیشگوئی کر رکھی ہے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے پنجاب بھر کی ضلعی انتظامیہ کو بارش سے ممکنہ نقصانات سے بچنے کےلئے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ایم ڈی واسا غفران احمد سمیت دیگر افسران و ملازمین نکاس اب کے لیے فیلڈ میں موجود ہیں۔ دوسری جانب این ڈی ایم اے نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کے لیے فلیش فلڈ کا الرٹ جاری کر دیا ۔این ڈی ایم اے کے مطابق 25 جولائی تک گرمی اور بارشوں کے باعث گلیشیرز پگھلنے کا شدید خدشہ ہے، جس سے ہنزہ، نگر، سکردو، شگر، استور اور دیامر میں سیلاب اور مٹی کے تودے گر سکتے ہیں، جبکہ اپر اور لوئر چترال کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ ادھرگلگت بلتستان کے ضلع روندو میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی سیلابی ریلے سے طورمک اور دوسنہ کے درمیان واقع ملاں پل بہہ گیا، جبکہ متعدد علاقوں میں آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث شمالی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔یہی صورتحال روندو میں سیلابی ریلے کا سبب بنی، جس سے رابطہ سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔دریں اثنا فلڈ فورسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے سندھ میں چشمہ سے کوٹری، جہلم، راوی، ستلج اور دریائے کابل سمیت دریائے چناب اور راوی کے اہم ملحقہ نالوں میں بہاﺅ معمول کے مطابق ہیں۔فلڈ فورسٹنگ ڈویژن نے بتایا کہ تربیلا ڈیم 61 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 41 فیصد بھرے ہوئے ہیں، گزشتہ سال اسی روز تربیلا ڈیم 80 فیصد اور منگلا ڈیم 51 فیصد بھرے ہوئے تھے۔