اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ چین کے عالمی معاشی طاقت بننے میں مقامی حکومتوں کے مضبوط اور بااختیار نظام نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بلدیاتی اداروں کو وسائل اور اختیارات نہ ملنے کے باعث معاشی ترقی مطلوبہ رفتار حاصل نہیں کرسکی۔
اسد عمر نے کہا کہ عام تاثر یہ ہے کہ چین میں تمام فیصلے صرف مرکزی حکومت یا کمیونسٹ پارٹی کرتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مجموعی پالیسی سازی مرکز میں ہوتی ہے جبکہ عملی طور پر ترقیاتی منصوبوں، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کا زیادہ تر بوجھ مقامی حکومتیں اٹھاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چین میں مجموعی حکومتی ٹیکس آمدن کا تقریبا 30 سے 35 فیصد مقامی حکومتیں خود جمع کرتی ہیں، جبکہ پاکستان میں بلدیاتی اداروں کے پاس ٹیکس وصولی کا اختیار ایک فیصد سے بھی کم ہے۔اسد عمر نے کہا کہ پاکستان میں تقریبا 90 فیصد مالی وسائل وفاق جبکہ باقی زیادہ تر صوبوں کے پاس ہوتے ہیں، جس کے باعث مقامی حکومتیں نہ سرمایہ کاروں کو ٹیکس مراعات دے سکتی ہیں اور نہ ہی اپنے علاقوں میں مثر معاشی منصوبہ بندی کر سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین میں مجموعی سرکاری اخراجات کا تقریبا 60 فیصد مقامی حکومتیں خرچ کرتی ہیں، 25 فیصد صوبائی حکومتیں جبکہ صرف 15 فیصد اخراجات مرکزی حکومت کرتی ہے، جبکہ پاکستان میں اس کے برعکس بلدیاتی اداروں کا حصہ نہایت محدود ہے۔سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں سال کراچی اور ممبئی کے بلدیاتی بجٹ کا موازنہ کیا جائے تو ممبئی میں فی شہری ترقیاتی بجٹ کراچی کے مقابلے میں تقریبا 60 گنا زیادہ ہے، جس کا براہ راست اثر شہری سہولیات، انفراسٹرکچر اور معیار زندگی پر نظر آتا ہے۔اسد عمر نے کہا کہ چین میں مقامی حکومتوں کے درمیان ایک مثبت معاشی مقابلے کی فضا موجود ہے، جسے “جی ڈی پی ٹورنامنٹ کہا جاتا ہے۔
ان کاکہناتھا کہہر شہر کا میئر اس بات پر مقابلہ کرتا ہے کہ کون زیادہ سرمایہ کاری لاتا ہے، زیادہ روزگار پیدا کرتا ہے اور اپنی معیشت کی ترقی میں زیادہ کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ مقامی حکومتوں کو زمین، ٹیکس، صنعتی پالیسی اور سرمایہ کاری کے حوالے سے وسیع اختیارات حاصل ہوتے ہیں، اس لیے وہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مثر کردار ادا کرتی ہیں۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ چین میں مقامی سطح سے قومی قیادت تک ترقی کا معیار بھی معاشی کارکردگی کو بنایا گیا ہے، جس کی وجہ سے وہی افراد آگے آتے ہیں جو سرمایہ کاری، روزگار اور اقتصادی ترقی میں بہتر نتائج دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہی نظام گزشتہ تین سے چار دہائیوں میں چین کی تیز رفتار ترقی کی ایک اہم وجہ بنا۔انہوں نے کہا کہ صرف چین ہی نہیں بلکہ امریکہ، برطانیہ، جاپان، فرانس اور اٹلی سمیت بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں بھی بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام موجود ہے۔
اسد عمر نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ نیویارک اور لندن کے میئر عالمی سطح پر معروف شخصیات ہوتے ہیں کیونکہ انہیں حقیقی اختیارات اور وسائل حاصل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے سابق وزیراعظم بورس جانسن بھی لندن کے میئر کی حیثیت سے کارکردگی دکھانے کے بعد اس منصب تک پہنچے تھے۔انہوں نے زور دیا کہ جب تک پاکستان میں بلدیاتی حکومتوں کو مالی اور انتظامی اختیارات منتقل نہیں کیے جاتے، شہری مسائل اور معاشی ترقی کی رفتار میں نمایاں بہتری ممکن نہیں۔