وزیراعظم

فیلڈ مارشل کی انتھک کوششوں اور خطے میں امن کےلئے کردار کو تاریخ میں یاد رکھا جائے گا،وزیراعظم

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک کوششوں اور خطے میں امن کےلئے کردار کو تاریخ میں یاد رکھا جائے گا،پاکستان اور چینی کمپنیوں کے مابین فارما سیوٹیکلز کے شعبے میں 44کروڑ ڈالرسے زائد مالیت کے 9معاہدے قابل تحسین ہیں ،دونوں ممالک کی نجی کمپنیوں کے مابین اشتراک سے پاکستان میں فارما سیوٹیکلز کے شعبوں کو ترقی ملے گی، چین پاکستان کا سب سے قابل اعتماد اور آزمودہ دوست اور اس کی معاشی و تزویراتی ترقی دنیا کےلئے ایک مثال ہے،چینی شہریوں کی سلامتی کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائےگا۔وہ جمعہ کو یہاں پاکستان اورچین کی فارما سیوٹیکلز کمپنیوں کی بزنس ٹو بزنس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔

اس موقع پر وفاقی وزرا، معاونین خصوصی اور اعلیٰ سرکاری حکام کے علاوہ پاکستان میں چین کے سفیر اور ملکی و چینی فارما سیوٹیکلز کمپنیوں کے نمائندے بڑی تعداد میں موجود تھے۔ وزیراعظم نے کانفرنس کے انعقاد اور اس میں چینی و پاکستانی سرمایہ کاروں کی شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی فارماسیوٹیکلز کمپنیوں کے مابین 44کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے 9 معاہدے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے اس سلسلے میں دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی کے علاوہ وفاقی وزیر صحت ، معاون خصوصی برائے صنعت وپیداوار، پاکستان میں چین کے سفیر اور چین میں پاکستان کے سفیر کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ وزیراعظم نے اس توقع کا اظہار کیا کہ یہ معاہدے عملی شکل اختیار کریں گے۔

انہوں نے چین کو پاکستان کا سب سے قابل اعتماد اور آزمودہ دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہرمشکل گھڑی میں چین نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور پاکستان کی اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، چین نے تمام عالمی فورمز پر پاکستان کی حمایت کی ، سی پیک ون کے تحت 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی ،وزیراعظم نے چین کی غیرمتزلزل حمایت پر چینی قیادت کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ وژنری لیڈر ہیں جنہوں نے چینی معاشرے اورمعیشت کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ انہوں نے چینی ترقی کو بے مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین نے نہ صرف معاشی بلکہ تزویراتی ترقی کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔

وزیراعظم نے چینی عوام کی تعلیم ، ریسرچ و ڈویلپمنٹ سمیت ہر شعبے میں بے مثال محنت اور کارکردگی کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ فارماسیوٹیکلز کی ترقی اور سرمایہ کاری کےلئے بڑا موقع ہے ، دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کے مابین مینوفیکچرنگ ، ویکسین کی تیاری اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں اشتراک سے فارماسیوٹیکلز کے تمام شعبوں میں ترقی ہوگی ۔ وزیراعظم نے خطے میں حالیہ بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران نے دنیا بھرکےلئے بڑے مسائل پیدا کردیئے ہیں ، پاکستان نے امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی میں اہم کردار ادا کیا جس کےلئے چین سمیت دوست و برادر ممالک نے بھرپور تعاون کیا ، صدر شی جن پنگ نے بہت خلوص سے ان کوششوں کی بھرپورحمایت کی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے مابین طے ہونے ہونے والیاسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں پاکستان ثالث ہے ۔ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں ان کا کردار یاد رکھا جائے گا۔

وزیراعظم نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی کاوشوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے عالمی رہنماﺅں سے رابطے کئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند ، شہد سے میٹھی اور فولاد سے زیادہ مضبوط ہے۔ وزیراعظم نے چین سے 300وفود کی فارماسیوٹیکلز کانفرنس میں شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں چینی شہریوں کی سلامتی ہمارے لئے سب سے اہم ہے، اس سلسلے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا جائے گا، چینی شہری ہمارے مہمان ہیں ، ان کی خوشی ہماری خوشی ہے۔وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بزنس کانفرنس کا انعقاد وزیراعظم محمد شہباز شریف کا وژن ہے، وزیراعظم کی رہنمائی سے فارماسیوٹیکل صنعت کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے کا منصوبہ پیش کیا، وزیراعظم ایک عملی شخصیت، کام کرکے دکھانے والے رہنما کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی رہنمائی اور قیادت کی بدولت ہم سب ایک ٹیم کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بی ٹو بی کے انعقاد میں چین میں پاکستان کے سفیر کے اہم کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سفیر نے فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے مختلف شعبوں پر توجہ دینے کے بارے میں ہماری رہنمائی کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے بزنس کانفرنس میں چینی کمپنیوں کی بھرپور شرکت کا خیرمقدم کیا۔ چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت باعث مسرت ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے بزنس ٹو بزنس تعاون کا وژن پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے بی ٹو بی ماڈل کو عملی تعاون کے لئے ایک نئی راہ کے طور پر متعارف کرایا، وزیراعظم شہباز شریف نے چینی کاروباری اداروں پر خصوصی توجہ دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مختلف منصوبوں پر تعمیراتی کام جاری ہے جس سے 20 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، وزیراعظم شہباز شریف صحت اور بائیو ٹیکنالوجی کے شعبوں پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، ان کے اقدامات اپنی عوام کی فلاح و بہبود کے ان کے عزم کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ چینی سفیر نے کہا کہ پاکستان میں صحت کی سہولیات کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے، پاکستان میں صحت کے شعبے میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں، پاکستان کی 29 ادویات کی مصنوعات پہلے ہی چینی منڈی میں داخل ہو چکی ہیں، ہم دونوں ملکوں کے کاروباری اداروں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کریں گے، کاروباری اداروں کو معیاری خدمات فراہم کریں گے۔ انہوں نے چینی کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی سرگرمیاں انجام دیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معیشت میں بہتری کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لئے چین پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے چین پاکستان دوستی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خوش قسمتی سے پاکستان کو وزیراعظم شہباز شریف کی صورت میں قیادت میسر ہے، عظیم قوم کی تقدیر ایسے رہنما بدلتے ہیں جو مستقبل کی تشکیل کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے عالمی سطح پر مسابقت کے لئے خود کو تیار کرنے کی ترغیب دی، ماضی کے طریقوں پر چلتے ہوئے پائیدار خوشحالی ممکن نہیں، وزیراعظم ہمیشہ باور کراتے ہیں کہ ہمیں جدت کو اپنانا ہوگا، صنعتی بنیاد کو مضبوط بنانا اور سائنس و ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں پاکستان مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے پرعزم ہے، وزیراعظم کے حالیہ دورہ چین نے اقتصادی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز کیا، وزیراعظم کے دورہ چین سے سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان چین کے تجربات کو بہت اہمیت دیتا ہے، چین کی غیرمعمولی ترقی اور تبدیلی ہمارے عہد کی نمایاں ترین ترقیاتی داستانوں میں سے ایک ہے، وزیراعظم کی قیادت میں پاکستان سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول تشکیل دے رہا ہے، قومی صنعتی پالیسی، قومی ٹیرف پالیسی جیسے اقدامات کے ذریعے صنعتی مسابقت کو مضبوط بنا رہے ہیں، سہولیات کی فراہمی، کم پیچیدگیاں اور زیادہ مسابقت ہمارا واضح مقصد ہے۔

کانفرنس میں پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان فارماسیوٹیکل سے متعلقہ شعبوں کے حوالے سے 44 کروڑ ڈالرز سے زائد مالیت کے 9 معاہدے ہوئے جن میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری، بائیو ٹیکنالوجی، ادویات کی تیاری، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور ہیپاٹائٹس سے بچاﺅ سے متعلق معاہدے شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ حفاظتی ٹیکوں کے قومی پروگرام کے حوالے سے تعاون کا معاہدہ بھی طے پایا۔
٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں