لاہور (نیوز ڈیسک)لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ٹیکس قوانین کی تشکیل اور مستقبل کی مالیاتی پالیسیوں میں ٹیکس ماہرین، وکلاء ، چارٹرڈ اکائونٹنٹس، صنعت و تجارت کے نمائندوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے باقاعدہ مشاورت کو ادارہ جاتی شکل دی جانی چاہیے تاکہ ایسا ٹیکس نظام تشکیل دیا جا سکے جو سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں، دستاویزی معیشت اور قومی محصولات میں پائیدار اضافہ کا ذریعہ بنے۔
ان خیالات کا اظہار لاہور ٹیکس بار کے صدر رانا ثاقب منیر، جنرل سیکرٹری محمد فاروق گجر، نائب صدر میاں عثمان جاوید، جوائنٹ سیکرٹری علی رضا چیمہ اور فنانس سیکرٹری سعد ایوب خان سمیت دیگر نے فنانس ایکٹ 2026 پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔سیمینار سے لاہور ٹیکس بار اکیڈمی کے چیئرمین ندیم بٹ نے فنانس ایکٹ 2026 میں متعارف کرائی گئی اہم ترامیم، پارلیمانی تبدیلیوں اور ان کے عملی اثرات پر تفصیلی خطاب کیا۔
لاہور ٹیکس بار کے عہدیداروںنے کہا کہ فنانس ایکٹ 2026 کے موثر نفاذ اور ٹیکس نظام کو زیادہ شفاف، منصفانہ، سادہ اور کاروبار دوست بنانے کے لیے مختلف ٹیکس قوانین میں فوری اصلاحات کی جائیں۔اس موقع پر چھوٹے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس نظام کو موثراور قابلِ عمل بنانے، ٹول مینوفیکچرنگ سے متعلق سیلز ٹیکس ودہولڈنگ کے مسائل کے خاتمے، لمیٹڈ لائیبلیٹی پارٹنرشپ کی الگ قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے، مالیاتی بیانات کے ری آڈٹ کے اختیارات میں مزید شفافیت، اور ڈیجیٹل انٹیگریشن و ریگولیٹری اصلاحات سمیت متعدد اہم تجاویز پیش کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹول مینوفیکچرنگ کے شعبے میں سروسز کے بلوں پر سیلز ٹیکس کی متعدد گنا ودہولڈنگ کی موجودہ تجویز قانونی اور عملی پیچیدگیوں کا باعث بن رہی ہے۔ لمیٹڈ لائیبلیٹی پارٹنرشپ کو انکم ٹیکس کے مقاصد کے لیے خودکار طور پر ایسوسی ایشن آف پرسنز قرار نہ دیا جائے کیونکہ دونوں اداروں کی قانونی حیثیت، ذمہ داریوں اور کارپوریٹ ڈھانچے میں بنیادی فرق موجود ہے۔