اسلام آباد(نیوز ڈیسک )نیپرا نے بجلی کی قیمت میں اضافے سے متعلق سی پی پی اے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ۔ سی پی پی اے نے بجلی کی قیمت میں 82 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست دی تھی، جس کی سماعت نیپرا نے منگل کے روز کی اور فیصلہ محفوظ کر لیا ۔
نیپرا اتھارٹی اعداد وشمار کا جائزہ لینے کے بعد اس حوالے سے فیصلہ کرے گی۔ درخواست کی سماعت کے موقع پر سی پی پی اے حکام نے نیپرا کو بتایا کہ مئی کے دوران 12 ارب 63 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، اور بجلی کی اوسط فیول لاگت 9 روپے 25 پیسے فی یونٹ رہی۔ مئی میں فی یونٹ فیول لاگت کا تخمینہ 8 روپے 43 پیسے تھا۔نیپرا نے کہا کہ حکومتی رعایتی پیکیج کے باوجود بجلی کھپت میں کمی سوالیہ نشان ہے۔این پی سی سی حکام نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ مئی میں بجلی پیداوار 23 ہزار 333 میگا واٹ رہی۔ تاہم دن میں سولرائزیشن کی وجہ سے ڈیمانڈ پر فرق پڑا ہے۔
این پی سی سی کے مطابق دن میں بڑھتی سولرائزیشن سے گرڈ کی طلب مسلسل کم ہو رہی ہے، اور بجلی کی کھپت میں ماہانہ بنیادوں پر 2.6 فیصد کمی ہوئی ہے۔سی پی پی اے نے بتایا کہ جون میں بجلی کی طلب زیادہ سے زیادہ 26 ہزار میگا واٹ رہی۔ ایران امریکا جنگ کے دوران فیول کی لاگت مہنگی ہوئی۔اگر نیپرا سی پی پی اے کی درخواست منظور کرتے ہوئے بجلی کی قیمت میں ایک ماہ کے لیے 82 پیسے فی یونٹ اضافہ کرتی ہے تو صارفین پر 12 ارب کا اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔