اسلام آباد(کامرس ڈیسک)مری گلاس ٹرین منصوبہ ایک مرتبہ پھر تیزی سے پیش رفت کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کا مقصد اسلام آباد اور مری کے درمیان جدید، تیز رفتار اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔ منصوبے کے تحت شیشے کے کیبن والی الیکٹرک مونوریل چلائی جائے گی جو سیاحوں کو پہاڑی مناظر سے لطف اندوز ہونے کا منفرد موقع فراہم کرے گی۔
حکام کے مطابق منصوبے کا مجوزہ روٹ تقریبا 40 کلومیٹر پر مشتمل ہوگا، جو اسلام آباد کے لیک ویو پارک کے قریب سے شروع ہو کر مری بس اسٹینڈ تک جائے گا۔ ابتدائی منصوبے میں لیک ویو پارک، چھتر پارک، گھوڑا گلی اور مری کے قریب اسٹیشنز شامل کیے گئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق پنجاب حکومت نے منصوبے کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی مکمل کر لی ہے جبکہ مونوریل سسٹم کے لیے بولی کے عمل کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک توسیع دینے کی تجویز بھی زیر غور رہی ہے تاکہ ملکی و غیر ملکی سیاح براہ راست مری تک جدید سفری سہولت حاصل کر سکیں۔
مری گلاس ٹرین منصوبہ کئی برسوں سے زیرِ غور تھا لیکن زمین، روٹ کے تعین، نئی تعمیرات، ماحولیاتی خدشات اور فزیبلٹی میں تبدیلیوں کے باعث اس میں تاخیر ہوتی رہی۔ حکام کے مطابق پرانی فزیبلٹی رپورٹ کو موجودہ حالات کے مطابق دوبارہ جانچنے کی ضرورت پیش آئی، کیونکہ مری کے پہاڑی علاقے میں تعمیراتی کام کے لیے جغرافیائی اور ماحولیاتی عوامل اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ مری میں ٹریفک کے دبا کو کم کرنے، سیاحت کو فروغ دینے اور مری روڈ پر گاڑیوں کی تعداد میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ مجوزہ شیشے کی ٹرین نہ صرف سفری سہولت فراہم کرے گی بلکہ پاکستان میں پہلا بڑا پہاڑی سیاحتی ریل منصوبہ بھی بن سکتی ہے۔تازہ پیش رفت کے مطابق حکومت کی جانب سے منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں اور تعمیراتی سرگرمیوں کے آغاز کے لیے اگلے مراحل مکمل کیے جا رہے ہیں۔