اے آئی ٹیکنالوجی

چین میں دل کے مریضوں کی نگہداشت بڑھانے کے لیے اے آئی ٹیکنالوجی کے تجربات

بیجنگ(ہیلتھ نیوز)چین نے عالمی سطح پر امراض قلب کے ڈاکٹروں کی کمی کے پیش نظر دل کے مریضوں کی نگہداشت بڑھانے کیلئے اے آئی ٹیکنالوجی کے تجربات شروع کر دیئے،موبائل ای سی جی، اسمارٹ فالو اپ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹمز کے ذریعے ہسپتال سے باہر بھی مریضوں کی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔

چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق دل کے مریضوں کے لیے خطرات صرف آپریشن تک محدود نہیں رہتے بلکہ ہسپتال سے گھر واپسی کے بعد بھی ان کی صحت کو مسلسل نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ فالو اَپ میں تاخیر اور خطرناک علامات کے بروقت نوٹس نہ لیے جانے سے پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ مسئلہ صرف ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ عالمی نوعیت کا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان میں ہر ایک ہزار افراد کے لیے ایک سے بھی کم ڈاکٹر دستیاب ہے، جبکہ عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں سب صحارا افریقہ میں یہ اوسط تقریباً 0.2 ڈاکٹر فی ہزار افراد تھی۔

اسی تناظر میں چین کے ہسپتال، جامعات اور ٹیکنالوجی کمپنیاں اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا مصنوعی ذہانت پر مبنی ای سی جی ماڈلز، بیماریوں کے لیے خصوصی اے آئی ایجنٹس اور اسمارٹ فون فالو اَپ ٹولز دل کے مریضوں کی نگہداشت کو ہسپتال سے باہر بھی مؤثر طریقے سے جاری رکھ سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق چین کے قومی مرکز برائے امراض قلب اور دنیا کے سب سے بڑے امراض قلب مراکز میں شمار ہونے والے فْو وائی ہسپتال میں ماہر امراض قلب ڈاکٹر وو یونگ جیان کی سربراہی میں ایک ٹیم نے ایسا نظام متعارف کرایا ہے جس کا مقصد مریضوں کو ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد بھی ڈاکٹروں کی نظر میں رکھنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بیجنگ اکیڈمی آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس ( بی اے اے آئی) کانفرنس میں پیش کیے گئے ماڈل کے مطابق، ہسپتال میں داخلے کے دوران جمع کیے گئے طبی ریکارڈز کو بعد از علاج سوالناموں اور پہننے کے قابل طبی آلات (ویئرایبل ڈیوائسز) سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے ساتھ یکجا کیا جائے گا۔ مریض موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے رابطے میں رہیں گے، جبکہ نظام خطرے کی سطح (رسک اسکور) اور ممکنہ طبی خدشات کے بارے میں انتباہات جاری کرے گا۔

فْو وائی ہسپتال کے مطابق اس منصوبے کا وسیع تر مقصد ماہرین کی طبی مہارت کو بیماریوں کے مخصوص ماڈلز میں منتقل کرنا ہے تاکہ طویل المدتی بنیادوں پر بڑی تعداد میں مریضوں کی نگرانی اور نگہداشت ممکن ہو سکے۔ ٹیم نے بتایا کہ اس حوالے سے متعدد مراکز پر مشتمل ایک تحقیقی مطالعہ جاری ہے، تاہم اس تحقیق کی تفصیلات ابھی تک عوامی ٹرائل رجسٹریوں میں آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دوسری جانب پیکنگ یونیورسٹی کے محقق ہونگ شینڈا اسی مسئلے کو طبی آلات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی ٹیم نے ای سی جی فاونڈر (ECGFounder) نامی ایک ای سی جی فاؤنڈیشن ماڈل تیار کیا، جسے 2025 میں این ای جے ایم اے آئی(NEJM AI )میں رپورٹ کیا گیا۔

یہ ماڈل تقریباً 18 لاکھ افراد سے حاصل کردہ 1 کروڑ 7 لاکھ سے زائد ای سی جی ریکارڈز پر مبنی ہے اور 150 مختلف تشخیصی زمروں پر محیط
ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ ماڈل ایک ہی لیڈ والے ای سی جی ریڈنگز اور روایتی کلینیکل ای سی جی دونوں پر کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ موبائل نگرانی کے لیے بھی موزوں ہے۔ہونگ کی ٹیم ایسے چھوٹے ای سی جی آلات کا بھی تجربہ کر رہی ہے جن کی مدد سے مریض ہسپتال سے باہر بھی آسانی سے دل کی دھڑکن کا ریکارڈ حاصل کر سکتے ہیں۔ صارف صرف دو انگلیاں ایک چھوٹے آلے پر رکھتا ہے اور تقریباً 30 سیکنڈ انتظار کرتا ہے، جس کے بعد موبائل انٹرفیس کے ذریعے ایک سنگل لیڈ ای سی جی ریکارڈ ہو جاتی ہے۔

اس اقدام کا مقصد ایسے حالات میں طبی معلومات حاصل کرنا ہے جہاں عام طور پر کوئی ڈیٹا دستیاب نہیں ہوتا۔رپورٹ کے مطابق ایسے نظام کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ڈاکٹر ان سے حاصل ہونے والے انتباہات پر اعتماد کر سکیں۔ ہسپتالوں کے لیے کلینیکل اے آئی سسٹمز تیار کرنے والی چینی کمپنی ایدو ٹیکنالوجی (Yidu Tech) کے مطابق اس کا شواہد پر مبنی طبی اے آئی ایجنٹ ہر نتیجے کو متعلقہ طبی رہنما اصول (Guideline) یا تحقیقی ماخذ سے جوڑتا ہے، تاکہ ڈاکٹر اصل حوالہ خود دیکھ سکیں۔

کانفرنس میں یہ بات بار بار سامنے آئی کہ طبی مصنوعی ذہانت مکمل خودکار تشخیص کی بجائے ایسے معاون نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جن کی سفارشات قابلِ تصدیق اور شفاف ہوں۔ رپورٹ کے مطابق ان تمام کوششوں کے باوجود ایک بنیادی رکاوٹ طبی ڈیٹا کا باہمی تبادلہ موجود ہے۔رپورٹ کے مطابق مریضوں کے ریکارڈز، طبی آلات سے حاصل ہونے والا ڈیٹا اور انشورنس معلومات اکثر مختلف نظاموں میں محفوظ ہوتی ہیں۔ اگر اے آئی کو ان معلومات تک رسائی نہ ہو تو وہ مؤثر انداز میں کام نہیں کر سکتی۔فْو وائی ہسپتال کی ٹیم نے بھی اس مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ان کے طویل المدتی وڑن کے لیے ضروری ہے کہ ہسپتال کے اندر کا ڈیٹا، گھریلو نگرانی کا ڈیٹا اور انشورنس معلومات ایک دوسرے سے منسلک ہوں۔ تاہم فی الحال یہ ایک ہدف ہے، مکمل طور پر قائم شدہ حقیقت نہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ ذمہ داری کا سوال بھی اہم ہے، مسلسل نگرانی صرف اسی صورت مؤثر ہو سکتی ہے جب اے آئی کو معلوم ہو کہ کب فیصلہ انسان کے سپرد کرنا ہے، اور یہ واضح ہو کہ کسی غلطی یا کوتاہی کی صورت میں ذمہ دار کون ہوگا۔ ماہرین کے مطابق منظوری، حفاظتی جانچ اور کھلے اختیارات رکھنے والے طبی اے آئی نظام کی ذمہ داری کے حوالے سے ضوابط ابھی تک مکمل طور پر طے نہیں ہوئے،یہ ماڈل ان ممالک کے لیے خاص طور پر اہم ہو سکتا ہے جہاں ڈاکٹروں اور ماہرین کی شدید کمی ہے اور مریضوں کی مسلسل نگرانی مشکل ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان اور افریقہ کے بعض علاقوں میں ڈاکٹروں کی کم تعداد کی وجہ سے ماہرین سے باقاعدہ فالو اَپ ممکن نہیں ہو پاتا،اگر اے آئی سے مدد یافتہ ای سی جی ٹولز اور فون پر مبنی فالو اَپ نظام مؤثر ثابت ہوتے ہیں تو یہ طبی عملے کو زیادہ خطرے والے مریضوں کی جلد شناخت میں مدد دے سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس کا مقصد ماہر امراض قلب کی جگہ لینا نہیں بلکہ ان کے علم اور مہارت کو استعمال کرتے ہوئے مریضوں کی درجہ بندی کرنا، خطرے کی علامات کی نشاندہی کرنا اور معمول کی نگہداشت کو مریضوں کے گھروں کے قریب ممکن بنانا ہے تاہم اس ماڈل کی کامیابی کے لیے مقامی طبی ڈیٹا، کلینیکل توثیق، کم لاگت آلات اور واضح ضوابط ضروری ہوں گے تاکہ یہ طے ہو سکے کہ سافٹ ویئر کی جانب سے انتباہ جاری ہونے پر کارروائی کون کرے گا۔

بصورت دیگر یہ منصوبے محض ہسپتالوں کے اندر آزمائشی سطح تک محدود رہ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر یہ تجربات کامیاب ہوتے ہیں تو چین کے یہ اقدامات ایسے صحت کے نظام کے لیے ایک مؤثر نمونہ فراہم کر سکتے ہیں جہاں ڈاکٹروں کی کمی کے باوجود دل کے مریضوں کی بہتر نگہداشت درکار ہے۔
٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں