پاکستان کسان اتحاد

وفاقی بجٹ مسترد ، پاکستان کسان اتحاد کا حکومت کو 30 جون تک کا الٹی میٹم

لاہور(کامرس رپورٹر ) پاکستان کسان اتحاد نے وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے حکومت کو 30 جون تک کا الٹی میٹم دے دیا اور کہا ہے کھاد اور ڈیزل پر سبسڈی کا اعلان نہ کیا گیا تو ملک گیر احتجاج شروع کر دیا جائے گا۔ پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ نے بجٹ پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کردیا اور کہ وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کسان اور زراعت کا نام لینا بھی گوارا نہیں کیا، جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کسان کی بات نہ کر کے ان کے زخموں پر نمک چھڑکا گیا ہے، حالانکہ زراعت اور کسان کو نظر انداز کرنا دراصل ملکی معاشی ترقی کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

چیئرمین کسان اتحاد کا کہنا تھا کہ ملک کا کسان پرامید تھا کہ نئے مالیاتی بجٹ میں 5 بنیادی زرعی مداخل سستے ہوں گے، لیکن بجٹ میں کھاد، پیسٹی سائیڈز ، بیج، ڈیزل اور بجلی پر کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔انہوں نے واضح کیا کہ کسان مالی سال 2026-27 میں بھی ملکی ترقی کی بنیاد رکھنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے حکومت کو کسانوں کی کمر توڑنے کے بجائے انہیں سہولیات دینا ہوں گی۔خالد حسین باٹھ نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ “اگر 30 جون تک کسان کے لیے ریلیف اور سبسڈی کا باقاعدہ اعلان نہ کیا گیا تو ہم سڑکوں پر ہوں گے اور ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں موجود کرپٹ مافیا کو ہر سطح پر بے نقاب کیا جائے گا، اور اگر کسان کو اس کا جائز حق نہ ملا تو وہ یہ حق چھین کر لیں گے۔کسان اتحاد کے رہنماﺅں کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی فیلڈ مارشل اور وزرائے اعظم کی جانب سے زراعت کی ترقی کے لیے کی جانے والی کاوشوں کی دنیا معترف رہی ہے، مگر موجودہ بجٹ میں زراعت جیسے اہم ترین شعبے کو بالکل لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں