تیزاب گردی

کرمنل لا ترمیمی بل 2026 میں تیزاب گردی کے مجرموں کےلئے سزائے موت کی تجویز

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) کرمنل لاترمیمی بل 2026 میں تیزاب گردی کے مجرموں کےلئے سزاﺅ ں میں سزائے موت بھی شامل کرنے کی تجویز دے دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں تیزاب گردی کے بڑھتے ہوئے ہولناک واقعات کی روک تھام کے لئے قانون کو مزید سخت کرنے کی تیاری کر لی گئی۔

نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے کرمنل لا ترمیمی بل 2026 قومی اسمبلی میں جمع کرا دیا، جس میں تیزاب پھینکنے والے مجرموں کےلئے سزائے موت کی سزا شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔مجوزہ ترمیمی بل کے تحت پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 336 بی میں ترمیم کی جائے گی۔بل کے متن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ سزائیں تیزاب گردی جیسے سنگین جرائم کو روکنے میں مثر ثابت نہیں ہو رہیں۔

یہ ایک ایسا سفاک اور ناقابلِ معافی جرم ہے جو متاثرین کو زندگی بھر کے لیے شدید ذہنی اذیت اور جسمانی معذوری میں مبتلا کر دیتا ہے۔بل میں تیزاب گردی پر عمر قید، کم از کم 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ برقرار رکھتے ہوئے اب اس میں سزائے موت کو بھی شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔بل کے متن میں کوئٹہ میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ہونے والے حالیہ تیزاب حملے کا خاص طور پر حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس واقعے نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

بل میں یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ سپریم کورٹ نے بھی تیزاب گردی کو بعض پہلوں میں قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم قرار دیا ہے کیونکہ متاثرہ فرد پوری زندگی اس کے ہولناک اثرات بھگتتا ہے۔نوابزادہ جمال خان رئیسانی کا کہنا ہے کہ خواتین اور کمزور طبقات کو تحفظ دینا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے اور صرف سخت ترین سزا ہی اس ناسور کا مستقل خاتمہ کر سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں