بھارت

بھارت‘ آئی ٹی کمپنی راتوں رات بند ہونے سے 700 ملازمین بے روزگار، سی ای او گرفتار

پونے (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی شہر پونے میں قائم ایک ٹیکنالوجی کمپنی اچانک بند ہونے کے بعد 700 سے زائد ملازمین، انٹرنز اور نئے بھرتی ہونے والے افراد بے روزگار ہو گئے جبکہ کمپنی کے سربراہ کو دھوکا دہی اور امانت میں خیانت کے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق مقدمہ 25 سالہ کارکن کی شکایت پر درج کیا گیا جبکہ 30 سے زائد دیگر ملازمین اور انٹرنز نے بھی اسی نوعیت کی شکایات جمع کروائی ہیں، کمپنی کے تربیت و ترقی شعبے کے سربراہ اور انسانی وسائل کے منیجر کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔

متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ کمپنی نے اپریل میں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے کام بند کر دیا، عملہ جب دفتر پہنچا تو دروازے بند تھے اور انتظامیہ سے رابطہ ممکن نہیں تھا، ملازمین اپنی بقایا تنخواہیں بھی وصول نہ کر سکے۔شکایات کے مطابق کمپنی ملازمین اور انٹرنز سے لیپ ٹاپ یا تقرری کے عمل کے نام پر 15,000 روپے بطور سیکیورٹی رقم وصول کرتی رہی، ابتدا میں تنخواہیں اور وظیفے ادا کیے گئے تاہم جنوری 2026 کے بعد ادائیگیاں بند ہو گئیں۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ بقایا جات کی ادائیگی کے لیے دیے گئے متعدد چیک بھی باﺅنس ہو گئے جبکہ انتظامیہ مسلسل اندرونی جانچ اور فنڈز میں تاخیر کا جواز پیش کرتی رہی۔الزام ہے کہ کمپنی ملازمین سے حاصل کی گئی سیکیورٹی کی رقم کو کاروباری اخراجات میں استعمال کرتی رہی اور اسی دوران نئی بھرتیاں بھی جاری رکھیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے کمپنی کے مالی معاملات اور کاروباری سرگرمیوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں