اسٹراسبرگ (نیوز ڈیسک)یورپی کونسل کے 34 رکن ممالک، یورپی یونین، آسٹریلیا اور کوسٹاریکا نے یوکرین کے لیے اس مستقبل کی خصوصی عدالت میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی ہے جس کا مقصد روس کے ساتھ جنگ سے متعلق مقدمات کی سماعت کرنا ہے۔
اسٹراسبرگ میں قائم یورپی کونسل کے سکریٹری جنرل ایلن بیرسیٹ نے آج جمعے کے روز ایک بیان میں کہا کہ وہ لمحہ قریب ہے جب روس کو اپنی جارحیت کا جواب دہ ہونا پڑے گا۔مالدووا کے دارالحکومت کیشینا میں یورپی کونسل کی وزرا کمیٹی (جس میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شامل ہیں)نے اس عدالت کی انتظامی کمیٹی کی بنیاد رکھنے کی قرارداد منظور کر لی ۔
یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی نے گذشتہ سال انسانی حقوق کے محافظ ادارے یورپی کونسل کے ساتھ معاہدے کے بعد اس عدالت کے خدوخال واضح کیے تھے۔ یورپی کونسل کے 46 اراکین ہیں جن میں یوکرین بھی شامل ہے۔اس عدالتی ادارے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ روس بین الاقوامی فوجداری عدالت میں قانونی کارروائی سے بچ نہ سکے، جس (عدالت)کو ماسکو تسلیم نہیں کرتا۔ روس نے جسے 2022 میں جنگ کے آغاز کے بعد یورپی کونسل سے نکال دیا گیا تھا، کہا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی عدالت کے فیصلوں کو کالعدم اور باطل تصور کرتا ہے۔
ایلن بیرسیٹ نے اشارہ کیا کہ یہ ادارہ انصاف اور امید کی علامت ہے اور اب اس سیاسی عزم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اس کے فعال ہونے اور فنڈنگ کی فراہمی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ایک علاحدہ بیان میں یورپی کمیشن نے اس عدالتی ادارے کے قیام کے لیے 1 کروڑ یورو فراہم کرنے کی نیت ظاہر کی ہے۔یورپی کونسل کے 12 ممالک ابھی تک اس اقدام کا حصہ نہیں بنے۔ ان ممالک میں یورپی یونین سے ہنگری، سلوواکیہ، بلغاریہ اور مالٹا، بلقان کے خطے سے سربیا، بوسنیا و ہرزیگووینا، شمالی مقدونیہ اور البانیہ، جبکہ قفقاز سے آرمینیا، آذربائیجان، جورجیا اور ترکیہ شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ نے مالدووا میں اپنے اجلاس کے دوران یوکرینیوں کو معاوضہ فراہم کرنے کے طریقہ کار کے لیے ممالک کی جانب سے ملنے والی بڑی حمایت کی تعریف کی۔دی ہیگ میں قائم یوکرین کے لیے کلیمز کی بین الاقوامی کمیٹی ہرجانے کی درخواستوں بشمول واجب الادا رقوم کا فیصلہ کرے گی۔
اس کمیٹی کے قیام کے معاہدے پر یورپی کونسل کے 37 رکن ممالک کے علاوہ یورپی یونین اور کینیڈا نے دستخط کیے ہیں۔یہ کمیٹی کمپنسیشن رجسٹری کی بنیاد پر کام کرے گی جسے 2023 میں قائم کیا گیا تھا اور جس میں یوکرین کے افراد، تنظیموں اور عوامی اداروں کی جانب سے معاوضے کے مطالبات جمع کیے جاتے ہیں۔ اس طریقہ کار کے تحت اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جن میں بیرون ملک مقیم ان یوکرینیوں کی درخواستیں بھی شامل ہیں جنہوں نے اخلاقی نقصان پہنچنے کی نشان دہی کی ہے۔