واشنگٹن(انٹرنیشنل نیوز )عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کی ایم ڈی کرسٹالینا جاجیوا نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ توانائی بحران برقرار اور دیگر سپلائی چین کا تعطل مکمل ختم ہونے میں وقت لگے گا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق اپنے ایک بیان میں ایم ڈی آئی ایم ایف نے کہاکہ بنیادی ڈھانچے کوپہنچنے والے نقصان کے باعث سپلائی کی بحالی فوری ممکن نہیں ہوگی۔کرسٹالینا جاجیوا نے مزید کہا کہ معاشی بحالی کا دارومدار اس بات پرہے کہ توانائی کی فراہمی کو پہنچنے والا جھٹکا کتنا شدید تھا۔ کرسٹالینا جارجیوا نے کہا آئی ایم ایف عالمی اقتصادی ترقی سے متعلق اپنی نئی پیش گوئی 8 جولائی کو جاری کرے گا، اپریل میں عالمی شرح نمو 3.1 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود تیل کی قیمتیں تنازع سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر بلند ہیں، جس کے باعث توانائی، کھاد اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات برقرار ہیں۔
بیان کے مطابق ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ افریقی ممالک کو ایندھن کی قلت، بڑھتی مہنگائی اور مالی دبا ﺅکا سامنا ہے۔ایم ڈی آئی ایم ایف نے کہا کہ تیل برآمد کرنے والے بعض خلیجی ممالک کی معاشی نمو متاثر ہو سکتی ہے جبکہ یورپ میں مہنگی توانائی اقتصادی سرگرمیوں پر دباﺅ ڈال رہی ہے، تاہم امریکا اور چین کی معیشتیں مضبوط رفتار سے آگے بڑھ رہی ہیں۔