راولپنڈی (نیوز ڈیسک)چیف آف آرمڈ فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہاہے کہ معرکہ حق صرف دو ممالک کے درمیان جنگ نہ تھی بلکہ یہ دو نظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا جس میں دشمن کو عبرت ناک شکست دی گئی،شکست خوردہ بھارت نے امریکہ کی سیاسی قیادت کے ذریعے ثالثی کی پیشکش کی، جسے پاکستان نے خطے کے وسیع تر امن کی خاطر قبول کیا،جب بھارتی میزائل گرے تو عوام کا جم غفیر ملک کے دفاع کے لیے امڈ آیا،عوام اور قومی قیادت کا پیغام ہے ملکی خودمختاری، سرحدی سالمیت، قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں،جنگ میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کی قیمت دشمن آنے والے وقتوں تک چکاتا رہے گا،ہندوستان کا خواب ہے وہ پاکستان کو تنہائی کا نشانہ بناکر خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کرے، بھارت کا یہ خواب پاکستان کبھی پورا نہیں ہونے دیگا،پاکستان کا دفاع کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مکمل طور پر ناقابل تسخیر ہے، دشمن جان لے آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطرناک، دور رس اور تکلیف دہ ہونگے،عصرِحاضر اور مستقبل کی جنگیں ملٹی ڈومین آپریشنز پر مشتمل ہوں گی، جنگوں میں دور تک مار کرنے والے ہتھیاروں، ڈرونز، سائبر اور آرٹیفشل انٹیلی جنس کا استعمال ہوگا،ہر محاذ پر کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھیں گے،افغانستان سے ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے وہ اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز کامکمل خاتمہ کرے،ہم ہر بے گناہ پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے،
دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہے گی،پاکستان نے اپنی سفارتی کوششوں سے لبنان میں جنگ بندی کرانے میں اہم کردار ادا کیا، گزشتہ سال کے دوران پاکستان کے قومی وقار میں اضافہ ہوا جس کا اعتراف دنیا کر رہی ہے، آج ہمارے دوستوں کی تعداد ماضی سے کہیں زیادہ ہے، پاکستان اپنی موثر، ذمہ دارانہ اور غیر جانب دار سفارتکاری کے ذریعے تاریخی امن مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے،سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ ہماری سفارتی کامیابیوں کا عظیم سنگِ میل ہے۔وہ اتوار کو جی ایچ کیو میں معرکہ حق کی یاد میں منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے ،ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف بھی تقریب میں موجود تھے ۔اس موقع پر ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے یادگارِ شہدا پر پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمڈ فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہاکہ آج کا دن ہم سب کیلئے باعث افتخار ہے، ایک سال قبل ہمیں بے مثال کامیابی ملی، دشمن نے ہمارے قومی عزم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جس کا ہماری فورسز نے منہ توڑ جواب دیا۔انہوںنے کہاکہ معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانے والی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا، 6 اور7 مئی کی درمیانی شب سے 10مئی تک دشمن نے ہمارے قومی وقار کو آزمانے کی ناکام کوشش کی۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ مئی 2025 کا معرکہ کوئی اچانک پیش آنے والا معرکہ نہ تھا،
ماضی میں بھی دشمن نے پاکستان پر بے بنیاد اور من گھڑت الزامات لگانے کی کوشش کی لیکن معرکہ حق میں بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا گیا، پاکستان کے دشمن کو ہر بار شکست سے دوچار کیا گیا۔چیف آف آرمڈ فورسز نے کہاکہ ہندوستان کا خواب ہے وہ پاکستان کوعسکری جارحیت اورسفارتی تنہائی کانشانہ بنائے، ہندوستان کا خواب ہے وہ پاکستان کو تنہائی کا نشانہ بناکر خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کرے، دشمن کا یہ خواب اس کے قد کاٹھ اور صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے، ہندوستان کا یہ خواب پاکستان کبھی پورا نہیں ہونے دے گا، دشمن بھول چکا تھا افواج پاکستان نہ پہلے طاقت کے غلبے سے مرغوب ہوئے نہ کبھی ہوں گے۔فیلڈ مارشل نے معرک حق میں شہید ہونے والی نہتی عورتوں، اور معصوم بچوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اپنے شہدا کی قربانی کو امانت، اپنی طاقت کو ذمہ داری سمجھتے ہیں، اپنی کامیابی کو خدائے بزرگ برتر کا احسان سمجھتے ہیں،
عوام اور قومی قیادت کا پیغام ہے ملکی خودمختاری، سرحدی سالمیت، قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں، یہ معرکہ صرف میدان جنگ میں ہی نہیں بلکہ ملکی قومی سطح پر تمام شعبہ جات میں جیتا گیا۔انہوںنے کہاکہ پوری قوم دفاع وطن میں سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئی، جب بھارتی میزائل گرے تو عوام کا جم غفیر ملک کے دفاع کے لیے امڈ آیا۔چیف آف آرمی اسٹاف نے کہاکہ ہمارے شیر دل شاہینوں نے دورحاضر کی سب سے طویل نتیجہ خیزجنگ کی مثال قائم کی، شاہینوں نے دشمن کے جدید جنگی جہاز زمین بوس کیے ،تنصیبات کو تباہ کیا، شاہینوں نے دشمن کے طیاروں کو زمین تک محدود کر دیا، ہندوستان کو اس جنگ کے نتیجے میں شدید جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا، اس نقصان کی قیمت دشمن آنے والے وقتوں تک چکاتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ فتح میزائلوں اور شاہینوں نے دشمن کے 26 سے زیادہ عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا،
الحمد اللہ! آج پاکستان کا دفاع کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مکمل طور پر ناقابل تسخیر ہے، دشمن جان لے پاکستان کے خلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات محدود نہیں ہونگے، آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطرناک، دور رس اور تکلیف دہ ہونگے۔سید عاصم منیر نے کہاکہ عصرِحاضر اور مستقبل کی جنگیں ملٹی ڈومین آپریشنز پر مشتمل ہوں گی، جنگوں میں دور تک مار کرنے والے ہتھیاروں، ڈرونز، سائبر اور آرٹیفشل انٹیلی جنس کا استعمال ہوگا۔چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہاکہ امریکا اور ایران کی قیادت بالخصوص امریکی صدر کے مشکور ہیں کہ انہوں نے اس مشکل کام کیلئے پاکستان پر اعتماد کیا ہے، ہم اپنی مخلصانہ کاوشوں سے اس اعتماد پر پورا ہونے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، آج پاکستان موثر، ذمہ دارانہ، غیرجانبدار سفارتکاری سے تاریخی امن مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان سے روایتی جنگ کو ناممکن تصور کرتے ہوئے بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا لے رہا ہے، افغانستان سے ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کامکمل خاتمہ کرے، پاکستانی عوام، افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والیاداروں کے باہمت اہلکاروں کوسلام پیش کرتا ہوں، بالخصوص کے پی اور بلوچستان کو سلام پیش کرتا ہوں جو گزشتہ 2 دہائیوں سے ڈٹ کر دہشتگردی کا مقابلہ کر رہے ہیں، ہم ہر بے گناہ پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔
چیف آف آرمی اسٹاف نے کہاکہ پاکستان کی کوئی بھی داستان کشمیر کے بنا ادھوری ہے، ہر محاذ پر کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھیں گے۔سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان نے اپنی سفارتی کوششوں سے لبنان میں جنگ بندی کرانے میں اہم کردار ادا کیا، ہماری منزل وہ مقام ہے جس کا خواب ہمارے اسلاف نے دیکھا تھا، پاکستان کاسبز ہلالی پرچم امیدکا استعارہ ہے، پاکستان کی مسلح افواج منظم اور ہر لمحہ تیار ہیں، پاکستانی قوم ہماری طاقت ہے اور ہم قوم کی قوت ہیں، پاکستان کا مستقل ان شااللہ بہت روشن اور تابناک ہے، جب حق اور باطل مقابل ہوں تو فتح ہمیشہ حق کا مقدر بنتی ہے، پاکستان کل بھی ناقابلِ تسخیرتھا اور آنے والے وقتوں تک ناقابلِ تسخیر رہے گا۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان اپنی موثر، ذمہ دارانہ اور غیر جانب دار سفارتکاری کے ذریعے تاریخی امن مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔پاکستان کی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہاکہ اقوام عالم نے جنگ بندی کرانے اور فریقین کو مذاکرات کے ذریعے خطے اور دنیا کو ایل ہولناک تباہی سے بچانے کی پاکستانی کوششوں کو سراہا ہے۔
انہوںنے کہاکہ ہم ایران اور امریکہ بالخصوص صدر ٹرمپ کے انتہائی مشکور ہیں جنھوں نے اس مشکل کام کیلئے پاکستان پر اعتماد کیا۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ مئی 2025 کی لڑائی کے دوران پاکستان نے اپنی فضائیہ اور فتح میزائلوں کی مدد سے دشمن کے 26 سے زیادہ عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کی فوجی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انڈیا نے جنگ بندی کی خواہش کا اظہار عالمی اور دیگر بیرونی قوتوں سے کیا۔انہوںنے کہاکہ شکست خوردہ انڈیا نے امریکہ کی سیاسی قیادت کے ذریعے ثالثی کی پیشکش کی، جسے پاکستان نے خطے کے وسیع تر امن کی خاطر قبول کیا۔فیلڈ مارشل نے اپنے خطاب میں صدرِ پاکستان، وزیراعظم، وفاقی کابینہ، قومی و صوبائی سیاسی قیادت اور تمام سیاسی جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کیا، جن کی سیاسی بصیرت اور رہنمائی سے پاکستان کو یہ کامیابی حاصل ہوئی۔
٭٭٭٭٭