شاہدخاقان عباسی

ملکی حالات بہتر کرنے کا ایک ہی راستہ آئین و قانون کی بالادستی ہے، کراچی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے،شاہدخاقان عباسی

کراچی(نیوز ڈیسک)عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملکی حالات بہتر کرنے کا ایک ہی راستہ آئین و قانون کی بالادستی ہے، کراچی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے،انہوں نے کہاکہ کراچی کا یہ حال ہے کہ پینے کیلئے پانی میسر نہیں،کراچی کو وفاق کے حوالے کرنا خواہش ہوسکتی ہے لیکن آئینی طور پر ممکن نہیں ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ملکی مسائل پر بات نہیں ہوتی، حکومت پیٹرول کی قیمتوں کا تعین آزادانہ نظام کے تحت کرے،آج کرپشن عروج پر ہے،ہم سلیکشن چھوڑ کر آئے ہیں،ان تمام جماعتوں سے اتحاد کریں گے جو عوام کی بات کریں گی،ہم تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

وہ مقامی بینکوئٹ میں عوام پاکستان پارٹی کے تحت صحافیوں کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کر رہے تھے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عوام پاکستان پارٹی جمہوری انداز میں شفاف طریقے سے مکمل ہوئی ہے۔ آج ہماری جماعت صرف عوام کی بات کر رہی ہے۔ ہم عوامی مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں جبکہ باقی جماعتیں خاموش ہیں۔ آج ملکی حالات سے عوام پریشان ہیں، انہیں اپنے مستقبل کی فکر ہے۔ عوام مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں، ہم امید پیدا کر رہے ہیں کہ حالات اچھے ہوں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں جب تک آئین و قانون کی بالادستی نہیں ہوگی، ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ ملک میں تمام نظام ناکام ہوچکے ہیں۔ آج آواز اٹھانا جرم بن چکا ہے۔ ریاست اور عوام کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔ حکومت پیٹرول کی قیمتوں کا تعین نہیں کرسکتی، اس لیے حکومت پیٹرول کی قیمتوں کا تعین آزادانہ نظام کے ماتحت کردے۔انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کی تنخواہیں بڑھ گئی ہیں لیکن عوام کی آمدنی نہیں بڑھی۔ یہ اسمبلیاں عوام کی نمائندہ نہیں ہیں۔ ہم نے کراچی کے معاملات پر بات کی، کسی پر تنقید نہیں کی۔ عوام کا پیسہ عوام پر خرچ ہونا چاہیے۔ ایک سڑک بھی ہم پانچ سال میں کراچی میں نہیں بناسکتے۔

کراچی میں نلکوں میں نہیں بلکہ ہائیڈرنٹس میں پانی آتا ہے۔ ہم عوام کی بات کرتے ہیں۔ تمام جماعتیں ناکام ہوچکی ہیں۔ ہر گھرانے کی آمدنی کم ہوگئی ہے۔ حکمران ملک کے نوجوانوں کو امید نہیں دلا رہے۔ 15 لاکھ نوجوان بیرون ممالک چلے گئے، یہ ہماری بدقسمتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے، اس کے بعد ہی ملک آگے بڑھے گا۔ اسمبلیوں میں عوام کی بات نہیں ہوتی۔ اگر امریکا اور ایران میں صلح کراسکتے ہیں تو ملک میں بھی صلح کرلیں، اس سے وفاق مضبوط ہوگا۔
٭٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں