اسلام آباد(نیوز ڈیسک)مشیر وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا ہے کہ اگر وزیراعظم فارم 47 کے تحت آئے ہیں تو پھر یہ بھی بتائیں کہ صدرِ مملکت نے جو ووٹ لیے وہ کس فارم کے تھے؟۔ ایک انٹرویومیں مسلم لیگ (ن)کے رہنما اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے سوال اٹھایا کہ یہ کہا گیا کہ اب سسٹم ختم ہو چکا ہے، تو پھر بتائیں کہ اس سسٹم میں 30 سال کا سفر صرف ساڑھے 3 سال میں کیسے طے کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ صوبے چار ہوں یا سات، اس سے ملک کا انتظامی نظام تبدیل نہیں ہوگا۔
وزیراعظم کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ یہ کہا گیا کہ وزیراعظم کے 18 گھنٹے کام کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گالیکن حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم کی محنت سے ملک کو بہت فرق پڑا ہے اور ملک ڈیفالٹ ہونے سے بچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا پاکستان کو ایک امن پسند ملک تسلیم کر رہی ہے، اور ملک کو بحرانوں سے نکالنا وزیراعظم کی بہترین لیڈرشپ نہیں تو اور کیا ہے؟سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہمیں نہ ڈرایا جائے کہ کاکروچ اکٹھے ہو گئے تو سنبھالے نہیں جائیں گے، ہم نے ان کاکروچوں کو اچھے طریقے سے سنبھالا ہوا ہے اور اب یہی کاکروچ باتیں کر رہے ہیں کہ چور دروازے بند کیے جائیں۔