تہران(انٹرنیشنل نیوز)ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس انتہائی اہم آبی گزرگاہ کا انتظام اور کنٹرول ایران کے ہاتھ میں ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی فارس کے مطابق بسیج فورس کے سربراہ حسین طائب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول اور انتظام میں ہے۔ انھوں نے صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر کہا کہ جو لوگ آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعوی کر رہے ہیں وہ جھوٹے ہیں۔ کوئی جہاز اب بھی ایران کی مرضی کے بغیر نہیں گزرے گا۔ بسیج فورس کے سربراہ نے کہا کہ عمان کے ساتھ مذاکرات طے پاجانے کے بعد بھی آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی اور کنٹرول ایران کا ہی برقرار رہے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے امریکا کو جون میں کیے مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو یقینی بنایا ہوگا۔
دریں اثنا ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر ریئر ایڈمرل علی عظمائی نے بھی دعوی کیا ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہے اور اس کے ذریعے ہونے والی تمام نقل و حرکت پر ایران کا مکمل کنٹرول ہے۔تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر ریئر ایڈمرل علی عظمائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ہونے والی کوئی بھی نقل و حرکت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے اہلکاروں کی نظروں سے اوجھل نہیں۔ایرانی کمانڈر کا کہنا تھا کہ حقیقت زمین پر موجود صورتحال سے دیکھی جانی چاہیے، امریکی حکام کے اعلانات اور بیانات سے نہیں۔امریکا بدستور مروقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ اہم آبی گزرگاہ بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کی واضح اجازت کے بغیر کوئی بھی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر نہیں سکتا۔علاوہ ازیں یرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف مجوزہ زمینی کارروائی کی سازش کو ابتدا ہی میں ناکام بنا دیا گیا تھا۔ابراہیم عزیزی کا کہنا تھا کہ امریکا کو اس وقت تک نہیں بخشا جائےگا جب تک اسے مکمل شکست نہیں ہو جاتی، ایران امریکا کا اس کی مکمل شکست تک پیچھا کرتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ ایرانی فوجی یونٹس نے مقامی فورسز کی مدد سے مختلف سمتوں سے ہونے والے منصوبہ بند زمینی حملے کو ناکام بنایا۔ حالیہ جنگ میں امریکا ایران کے خلاف کوئی بھی مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔