قومی ویمنز ہاکی

قومی ویمنز ہاکی ہائی پرفارمنس اینڈ کوچنگ ڈویلپمنٹ پروگرام کے آغاز کا باقاعدہ اعلان

اسلام آباد(سپورٹس ڈیسک)پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف)کے زیرِ اہتمام ملک میں خواتین کی ہاکی کی بحالی اور ترقی کیلئے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے قومی ویمنز ہاکی ہائی پرفارمنس اینڈ کوچنگ ڈویلپمنٹ پروگرام کے آغاز کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے اس سلسلے میں پہلا 10 روزہ قومی تربیتی کیمپ 7 اکتوبر سے اسلام آباد میں شروع ہوگا اس اہم کیمپ میں ملک بھر سے انڈر 15، انڈر 18، انڈر 21 اور سینئر کیٹیگریز کی بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ منتخب کوچز اور سپورٹ اسٹاف کو مدعو کیا گیا ہے۔کیمپ کی ٹیکنیکل قیادت ہالینڈ کے نامور اور تجربہ کار ہاکی کوچ رچرڈ سنیجر کریں گے۔

وہ قومی کھلاڑیوں اور مقامی کوچز کے ساتھ مل کر پاکستان میں ویمنز ہاکی کے لیے ایک جدید اور اعلی معیار کا ہائی پرفارمنس فریم ورک تشکیل دیں گے،کیمپ کے دوران ہالینڈ کے کوچ اہم ذمہ داریاں سرانجام دیں گے جن میں تمام چاروں کیٹیگریز کی کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کا تکنیکی اور جسمانی معائنہ،جدید تکنیکی، حکمتِ عملی اور فٹنس کے یکساں معیار کا نفاذ،کھلاڑیوں کی مہارت میں اضافے کے لیے جدید اور شدید تربیتی سیشنز شامل ہیں۔اعلامیہ میں بتایاگیاکہ ہر عمر کے گروپ کے لیے ان کی ضروریات کے مطابق الگ تربیتی شیڈول کی تیاری اور نئے ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کی نشاندہی اور قومی ٹیم تک رسائی کا منظم طریقہ کار مرتب کیا جائے گا اسکے علاوہ پاکستانی کوچز کی عملی تربیت تا کہ وہ اس پروگرام کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھ سکیں۔پی ایچ ایف ذرائع کے مطابق اکتوبر میں منعقد ہونے والا یہ کیمپ کوئی عارضی سرگرمی نہیں بلکہ یہ ایک سال پر محیط وسیع تر قومی ترقیاتی پروگرام کی بنیاد ہے۔رچرڈ سنیجر سال بھر کے دوران وقفے وقفے سے پاکستان کے دورے کریں گے تا کہ کھلاڑیوں کی پیشرفت کا جائزہ لیا جا سکے، جبکہ ان کی عدم موجودگی میں تربیت یافتہ پاکستانی کوچز اسی متعین کردہ طریقہ کار کے مطابق تمام کیٹیگریز کی تربیت جاری رکھیں گے تاکہ تمام سطحوں پر ایک جیسا معیار برقرار رہے۔اس پروگرام کا ایک اہم ستون ہے۔ مقامی خواتین کوچز کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔

کیمپ کے دوران خاتون کوچز بین الاقوامی ماہر کے ساتھ کام کر کے جدید ترین کوچنگ کی باریکیوں سے آراستہ ہوں گی اور بعد ازاں سال بھر قومی کوچنگ سیٹ اپ کا حصہ رہیں گی۔کھلاڑیوں کی ہمہ جہت ترقی کے لیے کیمپ میں درج ذیل ماہرین کی خدمات بھی شامل کی گئی ہیں جن میں خواتین اسپورٹس سائیکالوجسٹس (نفسیاتی ماہرین)،خواتین فٹنس، اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ ٹرینرز،ماہر خواتین ہاکی کوچز اور دیگر پرفارمنس سپورٹ اسٹاف بھی کیمپ کا حصہ ہونگے۔

یہ ہمہ جہت حکمتِ عملی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کھلاڑی نہ صرف کھیل کی تکنیک بلکہ اپنی ذہنی تیاری، فٹنس اور ریکوری کے عمل کو بھی بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق ڈھال سکیں۔پروگرام کے دوسرے بڑے مرحلے کے طور پر پاکستان ہاکی فیڈریشن کا مارچ میں سینئر اور جونیئر ویمنز ٹیموں کو تین ہفتوں کے لیے ہالینڈ بھیجنے کا منصوبہ ہے۔

اس دورے کے دوران پاکستانی ٹیمیں ہالینڈ کے نامور ویمنز ہاکی کلبوں کے ساتھ مشقیں کریں گی اور مسابقتی میچز کھیلیں گی، جس سے کھلاڑیوں کو دنیا کے مضبوط ترین ہاکی سسٹمز میں سے ایک کا قریب سے تجربہ حاصل ہوگا اور وہ جدید فٹنس اور پریسژن ہاکی سے آراستہ ہو سکیں گی۔ ہالینڈ کا یہ دورہ بھی رچرڈ سنیجر کی براہِ راست نگرانی میں انجام پائے گا۔پاکستان ہاکی فیڈریشن کا حتمی ہدف انڈر 15 کی سطح سے لے کر سینئر ٹیم تک ایک ایسا پائیدار اور خودمختار نظام قائم کرنا ہے جو بین الاقوامی کوچنگ، مقامی صلاحیتوں، سائنسی علوم اور عالمی ایکسپوژر کا بہترین امتزاج ہو۔7 اکتوبر سے اسلام آباد میں شروع ہونے والا کیمپ پاکستان میں ویمنز ہاکی کیلئے عالمی سطح پر مسابقتی بنانے کی سمت میں پہلا اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں