نیئر ہ نور

نامور گلوکارہ نیئر ہ نور کی چوتھی برسی 20اگست کو منائی جائے گی

لاہور(شوبز ڈیسک) نامور گلوکارہ نیئر ہ نور کی چوتھی برسی 20اگست کو منائی جائے گی۔نیئرہ نور1950 کو گوہاٹی آسام میں پیدا ہوئیں،وہاں ان کا خاندان امرتسر سے ہجرت کر کے گیا تھا،ان کے والدین تجارت پیشہ لوگ تھے، 1957 یا 1958 میں جس کے بارے میں خود نیئر نور کو بھی شک تھا، نیئر ہ نور اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کے ساتھ ہجرت کرکے پاکستان آ گئیں اور لاہور میں آکر قیام پذیر ہوئیں،اس وقت نیئر ہ نور کی عمر 7 سال کے قریب ہوگی، ان کے والد کو جائیداد کے مسائل کی وجہ سے1993 تک وہاں ہی رکنا پڑا تھا،وہ وہاں آسام میں موجود اپنی جائیداد فروخت کرکے پاکستان آئے اور باقی فیملی کا حصہ بنے تھے ۔

نیئرہ نور جب نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں زیر تعلیم تھیں تو ان دنوں وہاں موسیقی کی تقریبات منعقد ہوتی رہتی تھیں،وہاں منعقد ہونے والی ایک میوزیکل ایوننگ میں نیئرہ نور نے لتا بھجنجو تم تو ڈو پیا گایا تو وہاں اسلامیہ کالج کے پروفیسر اسرار بھی موجود تھے اور وہ ان کی آواز سے بہت زیادہ متاثر ہوئے، پروفیسر اسرار خود بھی گاتے اور گانے لکھتے تھے، نیئرہ نور نے کیریئر کے اوائل میں پروفیسر اسرار کے لکھے ہوئے کئی گانے گائے تھے،موسیقی کا شوق ہی شہریار زیدی اور نیرہ نور کو ایک دوسرے کے قریب لایا اور دونوں نے شادی کر کے ہمیشہ کے لئے ایک ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

نیرہ نور نے اگرچہ گائیکی کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا تھالیکن بعد میں پاکستان ٹیلی ویژن پر زیادہ توجہ مرکوز کئے رکھی۔ انہوں نے کئی فلموں کیلئے بھی اپنی آواز کا جادو جگایا۔اس پرچم کے سائے تلے اوروطن کی مٹی گواہ رہنابھی نیئرہ نور کا ایک اہم حوالہ ہیں۔ وہ 20اگست2022کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئی تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں