لندن(نیوز ڈیسک) بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹوں نے کہا ہے کہ ان کی اپنے والد سے سات ماہ سے ملاقات نہیں ہوسکی اور وہ ان کی صحت کےلئے فکر مند ہیں، ان کے والد نے آج تک جو کچھ کیا انھیں اس کا کوئی پچھتاوا نہیں،ہم نے جب بھی ان سے بات کی اس سے کبھی پچھتاوے کا تاثر نہیں ملا۔
قاسم اور سلیمان خان کا کہنا تھا کہ آخری مرتبہ ہماری ان سے مارچ میں فون پر بات ہوئی۔ اس کے بعد ان کے خاندان کو ان سے ملنے کی یا بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ عدالت کے مطابق ہمیں ان سے ہر دو ہفتے میں بات کرنی ہے۔ لیکن اس مرتبہ یہ طویل ترین عرصہ ہو گیا ہے جب ان سے بات نہیں ہوئی۔ ں قاسم اور سلیمان خان کا کہنا تھا کہ انھیں کسی نامعلوم وجہ سے پاکستان کا ویزا جاری نہیں کیا جا رہا کہ وہ پاکستان جا کر اپنے والد سے ملاقات کرسکیں۔انھوں نے کہا ہمارے پاکستانی پاسپورٹ ایکسپائر ہو چکے ہیں اور ویزا جاری نہ کیے جانے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آ رہی۔
ان کا کہنا تھا ان کے والد کا علاج قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں ہے جو تشدد کی ہی ایک شکل ہے۔عمران خان کے خلاف قائم مقدمات اور ان کی سزا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے والد پاکستان کے نظام میں بد عنوانی سے بہت خائف تھے۔ وہ ہمیں پانچ اور سات سال کی عمر کے بچوں کو بدعنوانی کے خلاف سمجھاتے تھے تو یہ دیکھنا بہت ہی تکلیف دہ ہے کہ خود انھیں بد عنوانی کے الزام میں قید کیا گیا ہے۔عمران خان کے بیٹوں کا کہنا تھا کہ یہ ان کے کروڑوں ووٹرز اور حامیوں کےلئے بھی غلط ہے کہ انھیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید کیا گیا ہے۔
حکام کے ساتھ آزادی کے بدلے کسی ممکنہ ڈیل سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انھوں نے کہا کہ ان کے والد کسی قسم کی ڈیل نہیں کریں گے۔ وہ جسمانی طور پر کمزور ہو چکے ہیں لیکن وہ ذہنی طور پر بہت طاقتور انسان ہیں۔اس سوال پر کے کیا انھیں اپنے کسی اقدام کا پچھتاوا ہو گا؟۔عمران خان کے بیٹوں کا کہنا تھا کہ ان کے والد نے آج تک جو کچھ کیا انھیں اس کا کوئی پچھتاوا نہیں۔ ہم نے جب بھی ان سے بات کی اس سے کبھی پچھتاوے کا تاثر نہیں ملا۔