کوئٹہ (نیوز ڈیسک)جمعیت وکلاءفورم پاکستان کے مرکزی صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے مستونگ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت جبکہ جوڈیشل افسر سمیت دیگر افراد کے زخمی ہونے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سانحہ بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا واضح مظہر ہے۔
انہوں نے حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری، شفاف تحقیقات اور عوام کے تحفظ کے لیے مو¿ثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال ہر شہری کے لیے باعثِ تشویش ہے، مگر افسوس کہ حکومت اور ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے، دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے مولانا صاحب کی کردار کشی میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے طرزِ عمل سے نہ صرف عوامی مسائل پسِ پشت چلے جاتے ہیں بلکہ ریاستی ترجیحات پر بھی سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دن دہاڑے قومی شاہراہ پر عدالتی افسران کو نشانہ بنایا جانا ریاستی رٹ پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ جب عوام، سرکاری افسران اور عدلیہ کے نمائندے بھی محفوظ نہ ہوں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت امن و امان برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ حکومت کی رٹ عملاً ختم ہو چکی ہے اور عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں صوبائی حکومت کی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے فوری طور پر استعفیٰ دے۔انہوں نے شہید سیشن جج اور ان کے گن مین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہداءکی مغفرت، درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی، جبکہ زخمی جوڈیشل افسر اور دیگر زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حملے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے مو¿ثر اور عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے۔