آبنائے ہرمز

آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد امریکہ ، ایران کے ایک دوسرے پر نئے حملے شروع

واشنگٹن،تہران،برسلز (انٹرنیشنل نیوز )امریکہ نے آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد چند گھنٹے بعد ایران پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کردیا،امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کے نئے سلسلے میں 80 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا اس کے جواب میں ایران کے پاسداران انقلاب کہا کہ انھوں نے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے 85 اہداف کو نشانہ بنایا ہے جبکہ امریکی ایم کیو-9 ڈرون کو مار گرا نے کا دعوی بھی کیا ہے ۔

عالمی میڈیارپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں سینٹ کام نے کہا کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر ایران کے حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئی۔سینٹ کام کے مطابق امریکی فورسز نے ایران کے فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس، ساحلی ریڈار تنصیبات، بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائل نظام اور آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں موجود پاسدارانِ انقلاب کی 60 سے زیادہ چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔بیان میں سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد بین الاقوامی تجارتی گزر گاہ سے ہونے والی تجارت پر حملے جاری رکھنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔

سینٹ کام کے مطابق ایران نے حال ہی میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں پر حملے کیے، جن میں مارشل آئی لینڈز کا پرچم بردار ایم/ٹی الرقایات، سعودی عرب کا پرچم بردار ایم/ٹی ودیان اور لائبیریا کا پرچم بردار ایم/ٹی سائپرس پراسپیرٹی شامل ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ ایرانی فورسز کی یہ بلا اشتعال جارحیت جنگ بندی کی واضح اور خطرناک خلاف ورزی ہے اور یہ بحری نقل و حرکت کی آزادی کو نقصان پہنچاتی ہے۔سینٹ کام نے کہا کہ اگر معاہدے کی پاسداری نہ کی گئی یا اس پر عمل در آمد میں ناکامی ہوئی تو امریکی فورسز ایران کو جواب دہ ٹھہرانے کے لیے تعینات اور تیار ہیں۔ ادھر ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے جزیرہ قشم، بندر عباس اور سیریک پر ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں لوگ زخمی ہوئے تاہم کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے امریکی حملوں کو دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ تہران فیصلہ کن اقدامات کرے گا۔ قبل ازیں برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن (یو کے ایم ٹی او )نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز کے قریب تین بحری جہازوں پر حملے کئے گئے ۔تنظیم کے مطابق ایک ٹینکر نے اطلاع دی کہ آبنائے ہرمز سے نکلتے وقت اسے نشانہ بنایا گیا، لیکن وہ اپنی اگلی بندرگاہ تک جانے میں کامیاب رہا، جبکہ ایک اور ٹینکر نے اطلاع دی کہ نشانہ بنائے جانے کے بعد اسے معمولی نقصان پہنچا۔

اسی طرح ایک تیسرا تیل بردار جہاز عمان کے جزیرہ نما مسندم سے تقریبا 6 بحری میل کے فاصلے پر ایک نا معلوم شے کے حملے کی زد میں آیا۔نشانہ بنائے گئے دو جہازوں کا تعلق قطر اور سعودی عرب سے تھا اور انھوں نے اس حملے کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا۔قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق آئل ٹینکر الرقایات پر حملے کی تمام تر ذمہ داری ایران پر ہے۔انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ قطر نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر تمام ایسے اقدامات بند کرے جو علاقائی سلامتی کو کمزور کرتے ہیں اور محدود مفادات کے حصول کے لیے عالمی توانائی کی رسد اور خطے کے ممالک کے وسائل کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کرے۔سوشل میڈیا پر ایک علیحدہ پوسٹ میں سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران نے سعودی ٹینکر ودیان کو آبنائے ہرمز عبور کرتے وقت نشانہ بنایا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آبنائے ہرمز میں قطر سے منسلک ایک جہاز پر حملے کے قطری الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں حیران کن قرار دیا ہے اور قطر کے الزامات کو حسنِ ہمسائیگی کے اصول کے منافی قرار دیا۔ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں انھوں نے مزید کہا کہ جو تجارتی بحری جہاز ایران کے ساتھ طے شدہ راستوں کے بجائے دوسرے راستے استعمال کرتے ہیں یا اپنی نقل و حرکت کی نگرانی کے نظام میں رد و بدل کرتے ہیں، انھیں تصادم کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور اس سے آبنائے ہرمز میں محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کی ایران کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔امریکہ نے ٹینکروں پر حملوں کو مکمل طور پر نا قابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے نتائج ہوں گے۔اس سے قبل قطر نے ایران کے نائب سفیر کو طلب کرکے آبنائے ہرمز کے قریب ایک قطری ایل این جی ٹینکر کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کے واقعے پر باضابطہ احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا تھا۔دوسری جانب ایران کے پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے 85 اہداف کو نشانہ بنایا۔بدھ کو جاری پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق امریکی فوجی تنصیبات پر کیے گئے حملے اس کا ابتدائی جواب ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ سابق ایرانی رہبرِ اعلی کی تدفین میں عوام کی غیر معمولی شرکت کے بعد امریکہ نے ایک بار پھر جنگ بندی اور اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کی اور بدھ کی علی الصبح ہرمزگان اور ماہشہر کے ساحلی علاقوں میں بعض فوجی اڈوں اور غیر فوجی مراکز پر فضائی حملے کیے۔

بیان میں مزید کہا گیاکہ اس جارحیت کے ابتدائی جواب میں، پاسداران انقلاب کی بحری اور فضائی افواج نے مشترکہ میزائل اور ڈرون کارروائیوں کے ذریعے بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کے مرکز، پورٹ سلمان اور کویت میں علی السالم فضائی اڈے سمیت 85 اہم امریکی فوجی تنصیبات کو تباہ کر دیا۔ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے امریکی ایم کیو-9 ڈرون کو مار گرایا ہے۔تسنیم نیوز کے مطابق پاسداران کے ترجمان حسین محبی نے کہا کہ ڈرون کو ایران کے صوبے بوشہر کے شہر خورموج کے اوپر نشانہ بنایا گیا۔اس سے قبل کویتی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فضائی دفاع کا نظام اس وقت دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہا ہے ۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کویتی فوج کے بیان میں کہا گیا: اگر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں تو یہ فضائی دفاعی نظام کے دشمن کے حملوں کو روکنے کے باعث ہوں گی۔

کویتی فوج نے شہریوں اور ملک میں مقیم افراد سے کہا ہے کہ وہ متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔بحرین میں فضائی حملے کے خطرےکے پیش نظر سائرن بج اٹھے۔بحرین کی وزارت دفاع کے مطابق شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کر دی۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر امریکی صدر نے جنوبی ایران کے شہر بندر عباس میں ہونے والے امریکی حملوں اور دھماکوں کی ویڈیو فوٹیج شیئر کی ہے۔ویڈیو میں بندر عباس میں مختلف مقامات پر دھماکوں اور فضائی حملوں کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔

دریں اثنا نیٹو چیف جنرل مارک روٹے کا کہنا ہے کہ ایران پر نئے امریکی حملے بہت ضروری تھے۔نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رٹہ نے ایران پر امریکی حملوں کی حمایت کرتے ہوئے انھیں انتہائی ضروری قرار دیا ہے۔انھوں نے یہ بیان بدھ کو انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر دیا۔صحافیوں سے گفتگو میں مارک رٹہ نے کہا کہ میرے خیال میں یہ اقدام انتہائی ضروری تھا، کیونکہ جب جنگ بندی نافذ ہو اور ایران اس کی خلاف ورزی کرے، جیسا کہ ہم نے گذشتہ روز تجارتی جہازوں پر حملوں کی صورت میں دیکھا، تو یہ بہت اہم ہو جاتا ہے کہ امریکہ فیصلہ کن ردعمل دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں