غزہ (انٹرنیشنل نیوز)غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دوران سیکڑوں جانیں بچانے والے معروف فلسطینی ڈاکٹر حسام ابو صفیہ نے اپنی حراست کے دوران کہا کہ وہ مجھے مارنے کے لئے یہاں لائے ہیں۔
مجھے نہیں لگتا کہ میں زندہ بچ سکوں گا، یہی میرا آخری وقت ہے۔غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کو اسرائیل نے اب تک نہ کسی باضابطہ فرد جرم کے تحت عدالت میں پیش کیا اور نہ ہی ان پر مقدمہ چلایا ہے، جبکہ انہیں ایک زیر زمین انتہائی سخت سکیورٹی والی جیل میں منتقل کئے جانے کی اطلاعات ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور ڈاکٹر ابو صفیہ کے وکیل نے ان کی جان کو لاحق خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں فوری تحفظ اور رہائی کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق گروپ نے غزہ کے ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی اسرائیلی حراست کو من مانی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور ڈاکٹر ابو صفیہ کے وکیل نے خبردار کیا ہے کہ ان کی جان کو فوری اور سنگین خطرات لاحق ہیں۔اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے کہا اسرائیل کی جانب سے ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی گرفتاری انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے اور شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے، بین الاقوامی قانون کے مطابق انہیں معاوضہ اور دیگر قانونی تلافی کا قابل نفاذ حق فراہم کیا جائے۔