غیر ملکی خواتین

غیر ملکی خواتین کے اغوا اور اجتماعی زیادتی پر سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

لاہور(کرائم رپورٹر)لاہور میں غیر ملکی خواتین کے اغوا اور اجتماعی زیادتی پر سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کردیاگیا ہے، جوڈیشل ایکٹوازم پینل نےآئین، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ پر حملوں پر شدید اظہار تشویش کرتے ہوئے کہاہے کہ لاہور واقعہ پاکستان کی عالمی ساکھ کے لیے سنگین خطرہ قرار ہے، بااثر شخصیات کے کردار کی آزاد اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

جوڈیشل ایکٹوازم پینل نے آدھی رات جوڈیشل مجسٹریٹ کی سرکاری رہائش گاہ پر چھاپہ عدلیہ پر حملہ قراردیتے ہوئے کہاہے کہ عدالتی آزادی پر کسی قسم کا حملہ ناقابل قبول ہے، صرف ایف آئی آر کافی نہیں، آزاد عدالتی تحقیقات ضروری ہیں، آئین کے آرٹیکلز 4، 9، 10-اے، 14 اور 25 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت سپریم کورٹ جج کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا جائے، بااثر عناصر کو قانون سے بالاتر نہیں ہونے دیا جا سکتا، متاثرہ غیر ملکی خواتین کو فوری اور مکمل انصاف فراہم کیا جائے، پولیس اور ریاستی اداروں کی کارکردگی کی غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاگیا ہےکہ پاکستان کی عالمی ساکھ اور انصاف کے نظام کی بحالی کے لیے آزاد تحقیقات ضروری ہیں۔

اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہاہے کہ انصاف میں تاخیر اور مداخلت ریاستی ذمہ داری سے انحراف ہے، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں، شفاف تحقیقات نہ ہوئیں تو عوامی اعتماد مزید مجروح ہوگا، طاقتور افراد کو بچانے کی ہر کوشش قانون کی حکمرانی پر حملہ ہوگی،سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات ہی سچ سامنے لا سکتی ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں