کیف /واشنگٹن /ماسکو (نیوز ڈیسک)روس اور امریکہ کے صدور نے یوکرین جنگ پر اہم رابطہ کیا ہے۔روسی صدارتی محل کریملن کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تقریبا ایک گھنٹہ 25 منٹ تک ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی، جس میں یوکرین کی جنگ اور اس سے متعلق پیش رفت پر تفصیلی تبادل خیال کیا گیا۔
یہ رابطہ نیٹو کے آئندہ سربراہی اجلاس سے قبل ہوا۔روسی صدر کے معاون برائے خارجہ امور یوری اوشاکوف نے بتایا کہ صدر پوٹن نے گفتگو کے دوران یوکرین جنگ کی تازہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی، جبکہ صدر ٹرمپ نے ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر اس تنازع کے خاتمے میں مدد کی پیشکش کی۔اوشاکوف کے مطابق امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے بھی ماسکو کے دورے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
دوسری جانب ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اگست کے اختتام سے پہلے روس کا دورہ کر سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے ابھی کسی حتمی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا۔یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے امریکی یومِ آزادی کی تعطیل کے دوران ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں یوکرین جنگ کی تازہ صورتحال اور اس کے خاتمے کے امکانات پر تبادل خیال کیا گیا۔
زیلنسکی نے اس گفتگو کو ”انتہائی اچھی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنمائوں نے محاذِ جنگ کی صورتحال پر بات کی۔ان کے بقول اس جنگ کے خاتمے کا حقیقی امکان موجود ہے اور اس مقصد کے لیے امریکی عزم فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ دونوں رہنمائوں نے اس ہفتے ترکی میں ہونے والے نیٹو کے سربراہی اجلاس کے موقع پر اپنی بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔