تہرن (انٹرنیشنل نیوز)ایران کے دارالحکومت تہران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ سے قبل ہزاروں افراد گرینڈ مصلی مذہبی کمپلیکس میں جمع ہوئے۔عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق نمازِ جنازہ کے شرکا نے ہاتھوں میں سرخ جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے جو انتقام کی علامت سمجھے جاتے ہیں جبکہ مجمع نے امریکا مردہ باد اور انتقام، انتقام کے نعرے بھی بلند کیے۔رپورٹ کے مطابق جنازے کی آمد سے قبل بڑی تعداد میں سوگوار خواتین کو بھی احاطے میں موجود دیکھا گیا۔اس سے قبل تہران کے مختلف میٹرو اسٹیشنز پر بھی لوگوں کی بڑی تعداد جمع دیکھی گئی جو میٹرو سروس کھلنے کا انتظار کر رہی تھی تاکہ نمازِ جنازہ میں شرکت کی جا سکے۔
دریں اثناء ایران کے شہید رہبرِ اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کی سرکاری آخری رسومات کا باقاعدہ آغاز تہران کی مصلی مسجد اور اس سے ملحقہ شاہراہوں پر ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دارالحکومت تہران میں لاکھوں سوگواروں کی آمد کے پیشِ نظر عظیم نماز گاہ کمپلیکس کے دروازے کھول دیے گئے ہیں، جہاں لوگ شہید رہبرِ اعلی کو آخری خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے ۔رپورٹ کے مطابق شہید آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے اور موجودہ سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنے والد کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہ کر نے کا بتایاگیا تاہم اس حوالے سے تاحال سرکاری طور پر کوئی واضح اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے رواں برس 28 فروری کو مشترکہ حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے سبب 8 مارچ کو یعنی تقریبا 1 ہفتے ہی میں نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کر لیا گیا تھا تاہم شہید سپریم لیڈر کی فوری تدفین نہیں کی گئی تھی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق 9 جولائی کو آخری نمازِ جنازہ مشہد میں ادا کی جائے گی اور پھر وہیں ان کی تدفین کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق شہید آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں ایککروڑ سے زائد افراد کی متوقع شرکت کے موقع پر نئے سپریم لیڈر کی سیکیورٹی یقینی بنانا بہت بڑا چیلنج ہو گا کیونکہ عوام ناصرف شہید لیڈر کا آخری دیدار کرنا چاہتے ہیں بلکہ نئے سپریم لیڈر کی جھلک بھی دیکھنے کو بے تاب ہیں۔امکان یہی ہے کہ نئے سپریم لیڈر کی سیکیورٹی ان کے عوامی دیدار پر مقدم رکھی جائے گی۔