لاہورہائی کورٹ

لاہو ر ہائیکورٹ، مونس الہی کی جائیداد منجمد، اشتہاری قرار دینے کا کیس، سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی

لاہور(کورٹ نیوز )لاہور ہائی کورٹ نے مونس الہی کی جائیداد منجمد کرنے اور اشتہاری قرار دینے کے فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ درخواست مونس الہی کی والدہ قیصرہ الہی کی جانب سے دائر کی گئی، جس کی سماعت چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سینئر وکیل اسلام آباد میں مصروف ہیں، اس لیے سماعت ملتوی کی جائے۔

اس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دئیے کہ آپ یہاں کس انداز میں کھڑے ہیں؟ کیا پکنک پر آئے ہیں یا ریسٹ کرنے آئے ہیں؟۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اپنے دلائل کا آغاز کریں، فائل کے مطابق آپ بھی سینئر ہیں۔ عدالت نے عامر سعید راں کی مصروفیت سے متعلق کاز لسٹ طلب کی، جس پر وکیل امداد حسین نے بتایا کہ عامر سعید راں پاکستان بار کونسل میں مصروف ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ تو بہت غلط بات ہے، بار کے معاملات کی وجہ سے عدالتی کارروائی کیسے رکے گی؟۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار اس کیس میں ملزم ہے؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ درخواست گزار ملزم کی والدہ ہیں۔عدالت نے مزید ریمارکس دئیے کہ کیا درخواست گزار اشتہاری ملزم کی جگہ پر درخواست دائر کر سکتا ہے؟ اشتہاری ملزم کے حقوق سے متعلق سپریم کورٹ کے واضح احکامات ہیں، آپ بتا دیں آج تک کسی اشتہاری ملزم کو یہ سہولت ملی ہے جو آپ درخواست کے ذریعے مانگ رہے ہیں؟۔وکیل نے موقف اختیار کیا کہ اس کیس میں سینئر وکیل ہی دلائل دیں گے۔

اس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ اس کنڈکٹ کی وجہ سے عدالتوں میں زیرِ التوا کیسز کا بوجھ بڑھ رہا ہے، آپ نے خود یہ کیس لگوایا اور پھر پیش نہیں ہو رہے۔عدالت نے وکیل کو تیاریکےلئے آدھے گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مونس الہی بیرونِ ملک مقیم ہیں اور ان کے خلاف بے بنیاد مقدمات بنائے گئے ہیں، لہذا عدالت ان کے اثاثے منجمد کرنے اور انہیں اشتہاری قرار دینے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔عمران خان سے اعلی شخصیت کی ملاقات کی متنازع خبر؛ یوٹیوبر رضی طاہر این سی سی آئی اے کے حوالے بعد ازاں عدالت نے وکیل کی استدعا پر درخواست پر کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں