خواجہ آصف

فیلڈ مارشل و وزیرِاعظم کی قیادت میں پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا، خواجہ آصف

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل اور وزیرِاعظم کی قیادت میں پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا۔اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات نئی بلندیوں کی جانب گامزن ہیں، خطے میں کشیدگی کم کرنے میں پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کے موثرسفارتی کردار سے خوش نہیں، بھارت نے دوبارہ جارحیت کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا، پاکستان نے جنگ کے بجائے مذاکرات اور امن کا راستہ اپنایا۔انہوں نے کہا کہ امتِ مسلمہ پاکستان کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے، خلیجی خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی مغربی سرحدوں پر امن کا خواہاں ہے، افغانستان کے ساتھ برادرانہ اور پرامن تعلقات چاہتے ہیں، افغان قیادت پاکستان کی دہائیوں پر محیط مہمان نوازی کو یاد رکھے، پاکستان نے افغان عوام کو پناہ، تعلیم اور روزگار فراہم کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے عالمی سطح پر مثبت اور موثر کردار ادا کیا، پاکستان خطے میں امن، استحکام اور ترقی کا خواہاں ہے، عالمی برادری پاکستان کی قیادت اور کردار کو سراہ رہی ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی پاکستان آمد ہمارے لئے باعث عزت ہے، ایران امریکا معاہدے میں پاکستان کا کلیدی کردار ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان محبت اور یگانگت بڑھ رہی ہے، یہ اسی محبت کی کڑی ہے کہ ایرانی صدر پاکستان آ کر ہم سے اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر کا تاریخی اہمیت کا دورہ ہے، وہ چند گھنٹوں کے لئے آرہے ہیں لیکن اہمیت بہت زیادہ ہے، بھارت کا ہاضمہ پچھلے سال سے تب سے خراب ہوا ہے جب سے انہیں مار پڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالی نے فتح دی، بھارت دوبارہ جارحیت کی کوشش کرے گا تو پاکستان پہلے سے زیادہ طاقتور جواب دے گا، امن کیلئے پاکستان کے حالیہ کردار سے بھارت کبھی خوش نہیں ہو گا، وہ نفرت میں لوٹ پوٹ رہے ہیں، بھارت افغانستان کے ساتھ مل کر سازشیں کر رہا ہے۔

پاکستان امن کے لئے اپنی مغربی سرحد پر امن قائم رکھنا چاہتا ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ افغان ہمسایوں سے درخواست ہے جو 40، 50 سال انہوں نے ہمیں مہمان نوازی کا شرف بخشا، اس کا تو لحاظ کر لیں، ہم پاکستانیوں کی روایت ہے ، کوئی پانی کا گھونٹ پلا دے تو ساری عمر اس کا احسان یاد رکھتے ہیں، ہم نے افغانوں کو سایہ فراہم کیا، کھربوں روپے کے کاروبار بنا کر دیئے، تعلیم دی، رہنے کے لئے گھر دیئے، بھارت کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف سازشوں پر افغانستان پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں