تہران،بیروت واشنگٹن (انٹرنیشنل نیوز)ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ 60 دنوں میں دوسرے فریق کو خطے میں فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے، نہ ہی دوسرے فریق کو نئی پابندیاں عائد کرنی چاہئیں۔اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم ہونی چاہئیں، ایران کو معاہدے کے بعد آئندہ 60 دنوں تک اپنا تیل فروخت کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا پابند ہے کہ ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی کے سلسلے میں رکاوٹیں دور کرے، ایران کے میزائلوں کے بارے میں کوئی دوسرا گفتگو کرے یہ بالکل پسند نہیں، ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر کسی بھی فریق کے ساتھ بات چیت نہیں کی جائے گی۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے بدلے فیس وصول کی جائے گی، ہمارے پاس افزودہ یورینیم کو کم درجے پر لانے کا آپشن موجود ہے۔ سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے میزائل پروگرام پر مذاکرات نہیں کیے جا سکتے، ایرانی جوہری مواد ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ اسرائیل کی لبنان میں موجودگی معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔اگر اسرائیل نے لبنان پر قبضہ جاری رکھا تو ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔دوسری طرف اسرائیل کا کہنا ہے کہ لبنان معاہدے کا حصہ نہیں ہے، جبکہ لبنانی صدر جوزف عون نے اصرار کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ان کے ملک کی بات چیت امریکا اور ایران معاہدے سے آزاد ہے۔ادھر امریکی قومی انسداد دہشتگردی سینٹر کے سابق سربراہ جو کینٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران مفاہمتی یادداشت کو برقرار رکھنے کے لیے اسرائیلی اقدامات کو محدود کرنا ضروری ہے۔ٹرمپ انتظامیہ سے استعفی دینے والے جو کینٹ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کا فیصلہ مثبت ہے، دعا ہے یہ امن اور خطے میں استحکام برقرار رہے، معاہدے کی کامیابی کا انحصار اسرائیل کو روکنے اور خطے میں توازن قائم رکھنے پر ہے۔
علاوہ ازیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران معاہدہ اسرائیل کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا، لبنان اور حزب اللہ سے متعلق معاملات میں اسرائیل کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔