پیپلز پارٹی

بجٹ منظوری ،حکومت کا پیپلز پارٹی سے پھر رابطہ،پی پی پی نے تحفظات حکومت کے سامنے رکھ دئیے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری کےلئے پاکستان پیپلز پارٹی سے رابطہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک اعلی حکومتی شخصیت نے پیپلز پارٹی کی قیادت سے رابطہ کر کے بجٹ کے حوالے سے ان کے تحفظات دریافت کیے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے بجٹ پر اپنے تمام تحفظات حکومت کے سامنے رکھ دئیے ہیں اور حکومتی شخصیت کو بجٹ کے معاملات پر ہونے والی مبینہ غلط بیانی سے بھی آگاہ کیا ہے۔پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق حکومت نے بجٹ کے سلسلے میں پارٹی سے کئے گئے اپنے وعدے پورے نہیں کئے ۔رابطے کے دوران حکومتی شخصیت نے پیپلز پارٹی کے تمام تحفظات وزیر اعظم تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ بجٹ پر تحفظات دور کر کے تمام وعدے پورے کیے جائیں گے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ بجٹ کے تحفظات پر حکومت کے باضابطہ جواب کا انتظار کرے گی اور حکومتی ردعمل کے مطابق ہی بجٹ کے حوالے سے اپنی اگلی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں جلد ہی حکومت اور پیپلز پارٹی کی بجٹ ٹیموں کے درمیان ملاقات کا بھی امکان ہے۔ دریں اثناءوفاقی بجٹ پر پیپلزپارٹی اور حکومت کے درمیان اختلافات دور نہ ہونے پر چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں بجٹ پر جاری بحث میں اپنی تقریر احتجاجا ملتوی کردی۔پیپلز پارٹی ذرائع کے مطابق پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے بجٹ سے متعلق پارٹی چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کو تفصیلی بریفنگ دی۔

اس بریفنگ میں میں نوید قمر نے بلاول بھٹو کو آگاہ کیا کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ مشاورت کے دوران جو بجٹ تجاویز اور اعداد و شمار شیئر کیے گئے تھے ان میں اور قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے بجٹ میں نمایاں فرق موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق بجٹ میں پائے جانے والے ان اختلافات پر پیپلزپارٹی کی قیادت نے تشویش کا اظہار کیا اورپیپلزپارٹی حکومت سے فوری وضاحت طلب کرے گی۔بجٹ کے معاملے پر بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر بھی ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں