اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کےلئے ٹیکس میں کمی ناگزیر تھی،ایف بی آر کے ریونیو میں اضافے کے ہدف سے گرفتاریوں، چھان بین اور دباءکی فضا پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ایک انٹرویو میں بجٹ کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ میری نظر میں تنخواہ دار طبقے کےلئے ٹیکس میں کمی ناگزیر تھی کیونکہ گزشتہ چند برسوں میں اس طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح سپر ٹیکس اور پراپرٹی ٹیکس سمیت متعدد اقدامات حکومت خود متعارف کروا چکی تھی، جن کے باعث سرمایہ کاری متاثر ہوئی اور صنعتوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اب ان ہی فیصلوں میں جزوی نرمی کو ریلیف کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا میرے نزدیک سب سے اہم سوال ایف بی آر کے ریونیو میں دو ہزار ارب روپے اضافے کا ہدف ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ “انفورسمنٹ کے ذریعے حاصل کیا جائے گا،جس سے گرفتاریوں، چھان بین اور دباءکی فضا پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔