اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ملک بھر کی سرکاری جامعات میں کام کرنے والی سائنسی محققین کی تنخواہیں 5 برس سے جمود کا شکار ییں اور فنانس ڈویژن ان ریسرچرز کی تنخواہیں بڑھانے کو تیار نہیں۔
ذرائع سے اطلاع ہے کہ نئے بجٹ میں بھی ان کی تنخواہوں میں پی ایچ ڈی سمیت دیگر الانسز شامل نہیں کیے جا رہے اور ان ریسرچرز کی تنخواہوں میں مسلسل جمود اور آنے والے بجٹ میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کے سبب ملک سے ان قابل ترین افراد کے برین ڈرین کا خطرہ بڑھ گیا ہے اور خدشہ ہے کہ جیسے جیسے ان ریسرچرز کو مواقع میسر آئیں گے یہ اپنی خدمات ملک سے باہر دینے پر ترجیح دیں گے۔معاشی مشکلات میں گھرے محققین تنخواہیں نہ بڑھنے سے ریسرچ کے بجائے دیگر پروجیکٹس کرنے پر مجبور ہیں۔
ایکسپریس کو ٹینیور ٹریک سسٹم پر کام کرنے والے ایک ریسرچر نے بتایا کہ اب ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ایچ ای سی سمیت دیگر اداروں سے مختلف سائنسی پروجیکٹ لے کر اپنا گزر بسر کریں، اس سے ہمارا بنیادی ریسرچ ورک بھی متاثر ہوتا ہے لیکن ہم مجبور ہیں۔واضح رہے کہ معروف سائنسدان اور سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر عطا الرحمن نے ان ریسرچرز کو ٹینیور ٹریک سسٹم (ٹی ٹی ایس)کے تحت جامعات میں مقرر کیا تھا اور ان میں سے بیشتر ریسرچرز بیرون ملک سے پی ایچ ڈی ہیں تاہم تنخواہیں نہ بڑھنے سے بہت سے محققین جامعات سے ریسرچ ورک چھوڑ کر جا چکے ہیں اور اب صرف 3600 ریسرچرز باقی بچے ہیں۔بتایا جا رہا ہے کہ تقرری کے وقت ان ریسرچرز کی تنخواہیں بی پی ایس اسکیل سے دگنی تھیں کیونکہ ان کے کارکردگی کے پیمانے بی پی ایس اساتذہ کے مقابلے میں انتہائی سخت تھے جبکہ ان کی پرفارمنس رپورٹ پر ریویو بھی ہر 3 سال بعد غیر ملکی سائنسدانوں سے کرایا جاتا رہا تاہم اب 5 برس سے تنخواہیں نہ بڑھنے سے ان کی تنخواہیں بی پی ایس کی آدھی رہ گئی ہیں۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں قائم پلاننگ کمیشن کی ٹاسک فورس ٹی ٹی ایس ریسرچرز کی تنخواہیں 35 فیصد پریمیئم کے ساتھ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای)کے بی پی ایس کے مساوی کرنے کی سفارشات رواں سال مارچ میں ہی دے چکی ہے جبکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، پلاننگ کمیشن کی ان سفارشات کی منظوری دے چکی ہے اور قائمہ کمیٹی کے اس اجلاس میں فنانس ڈویژن کو اس امر کا پابند کیا گیا تھا کہ دیے گئے فارمولے کے تحت ہی ٹی ٹی ایس ریسرچرز کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔مزید یہ کہ ایچ ای سی کی جانب سے اس معاملے پر فنانس ڈویژن کو خط بھی لکھا جا چکا ہے تاہم ذرائع بتاتے ہیں کہ فنانس ڈویژن ان سفارشات کو قبول کرنے کے لیے راضی نہیں۔
واضح رہے کہ نئے اسکیل پر کام کرنے والے جامعات میں بی پی ایس کے ایک پروفیسر 5 لاکھ کے لگ بھگ جبکہ ٹی ٹی ایس کا پروفیسر ٹیکس کٹوتی کے بعد ساڑھے 3 لاکھ کے قریب تنخواہ لیتا ہے۔بی پی ایس کا ایسوسی ایٹ پروفیسر 4 لاکھ جبکہ ٹی ٹی ایس کا ڈھائی لاکھ کے قریب تنخواہ لے رہا ہے۔ بی پی ایس کا اسسٹنٹ پروفیسر سوا 3 لاکھ جبکہ ٹیکس کے بعد ٹی ٹی ایس کا اسسٹنٹ پروفیسر ڈیڑھ لاکھ تنخواہ لے رہا ہے۔واضح رہے کہ ٹی ٹی ایس نظام کے تحت کراچی میں جامعہ کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آئی بی سی سی ایس میں کئی ایسے ریسرچرز موجود ہیں جو اعلی معیار کی ریسرچ کر رہے ہیں تاہم ان کی تنخواہیں جمود کا شکار ہیں۔