انقرہ (انٹرنیشنل نیوز )ترکیہ میں سیاسی بحران مزید شدت اختیار کرگیا ، جہاں ترک پولیس نے مرکزی اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں داخل ہوکر معزول قیادت کو نکالنے کی کارروائی کی۔ پولیس نے اس دوران آنسو گیس کا استعمال بھی کیا۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق عینی شاہدین نے کہا کہ پولیس نے عمارت کے باہر لگائی گئی رکاوٹیں ہٹا کر زبردستی اندر داخل ہونے کی کوشش کی، جبکہ اندر موجود افراد نے نعرے بازی کی اور پولیس پر مختلف اشیا پھینکیں۔
کارروائی کے دوران عمارت کے اندر آنسو گیس پھیل گئی، تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ترک عدالت نے چند روز قبل ریپبلکن پیپلز پارٹی کے سربراہ اوزگور اوزیل کو عہدے سے ہٹا دیا تھا اور 2023 میں ہونے والے پارٹی انتخابات کو بے ضابطگیوں کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا تھا۔ بعد ازاں انقرہ کے گورنر نے پارٹی ہیڈکوارٹر خالی کرانے کا حکم جاری کیا۔عدالت نے اوزگور اوزیل کی جگہ پارٹی کے سابق سربراہ کمال کلیچدار اوغلو کو بحال کردیا، جو 2023 کے صدارتی انتخاب میں صدر طیب اردوان سے ہار گئے تھے۔سیاسی تجزیہ کار اس صورتحال کو ترکی میں جمہوریت کے لیے اہم امتحان قرار دے رہے ہیں۔
ان کے مطابق اس فیصلے سے صدر اردوان کی طویل حکمرانی مزید مضبوط ہوسکتی ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد ترک مالیاتی منڈیوں میں بھی مندی دیکھی گئی، تاہم اگلے روز کچھ بہتری آئی۔پولیس کارروائی کے دوران اوزگور اوزیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا، ہم پر حملہ کیا جارہا ہے۔ بعد ازاں انہوں نے اعلان کیا کہ ریپبلکن پیپلز پارٹی اب سڑکوں پر احتجاج کرے گی۔اوزگور اوزیل اپنے حامیوں کے ہمراہ تقریبا 6 کلومیٹر مارچ کرتے ہوئے ترک پارلیمنٹ پہنچے، جہاں ہزاروں افراد نے ان کا استقبال کیا۔
مظاہرین نے کمال کلیچدار اوغلو کے خلاف نعرے بھی لگائے۔اوزیل کا خطاب میں کہنا تھا کہ جب تک پارٹی کو اس قبضے سے آزاد نہیں کرالیتے، ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ دوسری جانب پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ نے بھی انہیں پارلیمانی گروپ کا سربراہ منتخب کرلیا ہے۔ادھر ایک ترک ٹی وی چینل نے کلیچدار اوغلو کی ٹیم کے افراد کو پارٹی ہیڈکوارٹر کے اندر دکھایا، تاہم کمال کلیچدار اوغلو نے اب تک اس صورتحال پر کوئی بیان نہیں دیا۔معزول قیادت نے اپنے حامیوں کو استنبول میں مختلف مقامات پر احتجاج کی کال بھی دی ہے۔
اوزگور اوزیل اور ان کے حامیوں نے عدالتی فیصلے کو عدالتی بغاوت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قانونی طریقے سے اس فیصلے کو چیلنج کریں گے۔اوزیل نے جلد نئے پارٹی انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ کلیچدار اوغلو کا کہنا ہے کہ نئی کانگریس مناسب وقت پر بلائی جائے گی۔ترکیہ میں اگلے عام انتخابات 2028 میں متوقع ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق حالیہ بحران کے بعد قبل از وقت انتخابات کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ترک حکومت نے اپوزیشن کے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے کہ عدالتوں کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہے۔