اسحق ڈار

وزیراعظم کی متحرک قیادت میں حکومت معاشی بحالی، صنعتی توسیع اور پائیدار ترقی کے پرعزم ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، اسحق ڈار

ہانگژو(نیوز ڈیسک)نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی متحرک قیادت میں حکومت معاشی بحالی، صنعتی توسیع اور پائیدار ترقی کے پرعزم ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، پیچھے مڑ کر دیکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اب صرف آگے اور اوپر کی جانب سفر ہے،پاکستان اور چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں، فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہماری دوستی وقت، عالمی تبدیلیوں اور علاقائی چیلنجز کے باوجود مزید مضبوط ہوئی ہے۔

اتوار کو پاکستانـچین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس برائے آئی ٹی و ٹیلی کام، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز اور زراعت کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ انہیں خوبصورت شہر ہانگڑو میں کانفرنس کے انعقاد پر بے حد خوشی ہے۔انہوں نے چینی کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ” اوپر آسمان ہے اور نیچے سوژو اور ہانگژو ہیں” اور آج واقعی محسوس ہوتا ہے کہ ہانگژو کو زمین پر جنت کیوں کہا جاتا ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ اس بی ٹو بی کانفرنس کے انعقاد میں معاونت اور وڑن فراہم کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جن شعبوں کا انتخاب کیا گیا ہے وہ پاکستان کی معاشی تبدیلی اور صنعتی جدیدیت کے لیے نہایت اہم ہیں۔اسحاق ڈار نے چین کی وزارت خارجہ، وزارت تجارت، صوبہ ڑی جیانگ کی قیادت اور چائنا کونسل فار دی پروموشن آف انٹرنیشنل ٹریڈ، ڑی جیانگ صوبائی کمیٹی کے تعاون کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر لیو جیے کی ذاتی شرکت دونوں ممالک کے تعلقات کی گہرائی کی عکاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں پاکستان اور چین کی 500 سے زائد کمپنیاں شریک ہیں اور یہی ادارے دونوں ممالک کے درمیان معاشی شراکت داری کی اصل قوت ہیں۔اسحاق ڈار نے کہاکہ گزشتہ چار برسوں کے دوران پاکستان نے معاشی استحکام حاصل کیا ہے اور بیرونی چیلنجز کے باوجود معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کاروبار کیلئے تیار ہے، پاکستان اصلاحات کر رہا ہے لور پاکستان ترقی کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ نے اقتصادی سفارت کاری کو خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون بنا دیا ہے جبکہ چین کے ساتھ بڑھتا ہوا بی ٹو بی تعاون اسی نئی حکمت عملی کی واضح مثال ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان اور چین کے درمیان آہنی دوستی ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہی ہے۔نائب وزیراعظم وزیر خارجہ نے کہا کہ اب تک چین اور پاکستان میں مجموعی طور پر چار بی ٹو بی کانفرنسیں ہو چکی ہیں جبکہ یہ شعبہ جاتی کانفرنسوں کا پانچواں ایڈیشن ہے، ان کانفرنسوں کے نتیجے میں 300 سے زائد مفاہمتی یادداشتوں اور تقریباً تین درجن مشترکہ منصوبوں پر دستخط ہو چکے ہیں، جن کی مجموعی مالیت 13 ارب امریکی ڈالر سے زائد ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف اعدادوشمار نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد، یقین اور مشترکہ عزائم کا ثبوت ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ ہفتے انہیں اسلام آباد میں آئی بی آئی پاکستان ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹرز کا افتتاح کرنے کا اعزاز حاصل ہوا جبکہ چیئرمین چیان کی وزیراعظم سے بیجنگ میں ملاقات کے صرف آٹھ ماہ بعد کمپنی نے پاکستان میں دفتر قائم کر کے اپنی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی بی آئی کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کے ایم او یوز پر دستخط ہوئے۔ انہوں نے پاکستان کے سروسز گروپ اور چین کے لانگ مارچ ٹائرز کے درمیان مشترکہ منصوبے کو بھی کامیاب مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف پانچ برسوں میں یہ منصوبہ ایک ارب ڈالر مالیت کی کمپنی بننے جا رہا ہے جو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فہرست شدہ ہوگی۔اسحاق ڈار نے چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں حال ہی میں چینی وزیر خارجہ کی جانب سے” آؤٹ اسٹینڈنگ ڈپلومیٹ میڈل” سے نوازا گیاجو پاکستانـچین تعلقات کے فروغ میں ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستانی سفارتی مشنز کو فعال روابط، ہدفی رسائی، اسٹریٹجک شراکت داریوں اور عملی نتائج پر مبنی اقتصادی سفارت کاری کا یہی ماڈل اپنانا ہوگا۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ جب پاکستان اور چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں تو یہ دیکھ کر فخر محسوس ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کی دوستی وقت، عالمی تبدیلیوں اور علاقائی چیلنجز کے باوجود مزید مضبوط ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتوں کے درمیان تاریخی تعلقات اب ایک متحرک اور وسعت پذیر کاروباری شراکت داری میں بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔

اسحاق ڈار نے چینی کہاوت ” ہزار میل کا سفر ایک قدم سے شروع ہوتا ہے” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں دو سال قبل شینزن میں پہلا قدم اٹھایا تھا اور اب یہ سفر رفتار، اعتماد اور واضح مقصد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب پیچھے مڑ کر دیکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اب صرف آگے اور اوپر کی جانب سفر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں