پاکستان

امریکا کے ایران پر حملے کےلئے پاکستانی فضائی حدود مانگنے سے لاعلم ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )ترجمان وزارت خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان مشرق وسطی میں کشیدگی کے خاتمے کے لئے کردار ادا کر رہا ہے،امریکا کے ایران پر حملے کےلئے پاکستانی فضائی حدود مانگنے سے لاعلم ہیں، اعلی سطح کے پاکستانی وفد کے ممکنہ دورہ ایران سے متعلق خبروں سے آگاہ نہیں،ان اطلاعات کی تصدیق کی جا سکتی ہے اور نہ تردید، پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان امن عمل میں سہولت کاری بھی فراہم کر رہا ہے، نائب وزیراعظم کو امن عمل سے سائیڈ لائن کرنے کے تاثرات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں،

وزیراعظم، فیلڈ مارشل، نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ سب مل کر کوششیں کر رہے ہیں،افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے، بھارت میں پاکستانی پنکھے کی موجودگی سے متعلق الزامات کو بھی مضحکہ ، یہ دعوے کبوتر بیانیے کی طرح فرسودہ اور دقیانوسی ہیں،یو اے ای سے پاکستانیوں کو نکالے جانے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ ان خیالات کااظہار ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف خطے میں امن کا خواہاں ہے بلکہ عالمی قوانین، کشمیر، پانی اور دہشت گردی سمیت اہم معاملات پر بھی اپنا موقف بھرپور انداز میں دنیا کے سامنے رکھ رہا ہے۔

مشرق وسطی تنازع کے خاتمے کےلئے پاکستان کے سفارتی اقدامات اس ہفتے بھی جاری رہے۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم شہباز شریف نے قطر کے امیر سے 2 مرتبہ رابطہ کیا۔انہوں نے بیان میں کہا کہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی دیگر وزرائے خارجہ کے ساتھ رابطے میں رہے تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔اسی طرح وزیر داخلہ نے ایران کے دو اہم دورے کیے جہاں ایرانی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور سیکیورٹی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کسی اعلی پاکستانی وفد کے ممکنہ دورہ ایران سے متعلق خبروں سے آگاہ نہیں، اس لئے ایسی اطلاعات کی نہ تصدیق کی جا سکتی ہے اور نہ تردید۔ترجمان نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیانات سے متعلق سوال پر کہا کہ وہ بیانات وزیر داخلہ کے دورہ ایران کے تناظر میں تھے، کسی اور شخصیت یا وفد کے حوالے سے نہیں۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ نائب وزیراعظم کو امن عمل سے سائیڈ لائن کرنے کے تاثرات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امن عمل کو کسی ایک ادارے یا شخصیت کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ وزیراعظم، فیلڈ مارشل، نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ سب مل کر کوششیں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایرانی قیادت سے مسلسل رابطے میں ہے اور یہ رابطے ہمسایہ ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کا حصہ ہیں۔ ترجمان کے مطابق پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان امن عمل میں سہولت کاری بھی فراہم کر رہا ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے امریکی حملے کیلئے پاکستان سے فضائی حدود مانگنے کے تاثر کو بھی مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایسا کوئی مطالبہ پاکستان کے سامنے نہیں رکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ملک میں دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کیے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ چین نے ہر مشکل میں پاکستان کی مدد کی، پاکستان اور چین کے درمیان بہتر ین تعلقات پائے جاتے ہیں، تجارت ، صنعت ، تعلیم اور عوامی رابطوں میں دوں ملکوں میں باہمی شراکت داری موجود ہے۔ اور دونوں ممالک خطے میں امن و استحکام کے خواہاں ہیں۔طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ سفارتی تعلقات کے 75 سال پر پاک چین لازوال دوستی اور باہمی تعاون کا اعادہ کیا جارہا ہے، پاک چین تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں، چین کی جانب سے غیر متزلزل حمایت جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم 23سے 26 مئی تک چین کا دورہ کریں گے، ان کا دورہ دونوں ممالک کی آل ویدراسٹریٹجک پارٹنر شپ کی تجدید اور مزید مضبوطی کا باعث بنے گا، وزیراعظم پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کی صدارت بھی کریں گے، بیجنگ میں وزیر اعظم ایک استقبالیہ تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم کی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ اور چینی وزیر اعظم لی چیانگ سے ہوگی، زراعت ، تجارت، آئی ٹی ، سائنس اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ پر توجہ دی جائےگی۔

پاک افغان تعلقات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ افغان سرزمین سے دہشت گرد گروہوں کے پاکستان میں حملے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی قوانین اور دوحہ معاہدے کے مطابق افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت خطے میں دہشت گردی پھیلانے کے درپے ہے، بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کیلئے بلند ہونے والی آوازوں کو دبانے کی کوشش کرتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں ہونیوالی بربریت کی عالمی برادری گواہ ہے، کشمیری رہنماﺅں کے ساتھ ہونے والے مظالم قابل مذمت ہیں۔ پاکستان 21 مئی کے واقعہ میں شہید کشمیریوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت میں پاکستانی پنکھے کی موجودگی سے متعلق الزامات کو بھی مضحکہ خیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دعوے کبوتر بیانیے کی طرح فرسودہ اور دقیانوسی ہیں۔متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کو نکالے جانے کے حوالے سے خبروں پر انہوں نے کہا کہ ایسے الزامات بے بنیاد ہیں اور پاکستان انہیں مسترد کرتا ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ تقریبا 3 ہزار پاکستانیوں کی واپسی مختلف قانونی اور انتظامی تناظر میں ہوئی، جبکہ حکومت اور پارلیمان کے اعداد و شمار میں کوئی فرق نہیں۔

سندھ طاس معاہدے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نکلنے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے میں تنازعات کے حل کا مکمل قانونی طریقہ کار موجود ہے اور پاکستان اسی کے تحت انٹرنیشنل کورٹ آف آربیٹریشن سے رجوع کر چکا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے پانی کے ایک قطرے پر بھی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اس معاملے پر تمام قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وہاں گھروں کو مسمار کرنا انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ ان کے مطابق کشمیریوں کے گھروں کو گرانا مقبوضہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی غیرقانونی کوششوں کا حصہ ہے۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ 17 مئی کو سعودی عرب اور یو اے ای کی فضائی حدود میں ڈرون حملوں کے واقعات پیش آئے، ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، پاکستان نے ڈرون واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور سخت مذمت کی، پاکستان نے امید ظاہر کی کہ ایسے افسوسناک واقعات دوبارہ نہیں ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں