کراچی(نیوز رپورٹر )کراچی کے لیاری ایکسپریس وے ری سیٹلمنٹ منصوبے میں اربوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر نیب نے ابتدائی انکوائری مکمل کرلی۔
ذرائع کے حوالے سے میڈیارپورٹ کے مطابق انکوائری میں ملنے والے شواہد کی بنیاد پر کیس انویسٹی گیشن کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، منصوبے کے لیے غیرقانونی الاٹمنٹ، چائنا کٹنگ اور جعلی الاٹمنٹ کی گئی۔ اس کے علاوہ نیب نے چھاپوں کے دوران ہزاروں پلاٹوں کی فائلیں اور شواہد قبضے میں لے لئے ۔نیب ذرائع کے مطابق قبضے میں لی گئی فائلوں میں سے 65 فیصد پر جعلی الاٹمنٹ آرڈرز پائے گئے، جعلی آرڈرز پر اسسٹنٹ ڈائریکٹرز لینڈ، ایگزیکٹو انجینئر کے دستخط ہیں، 6 مشتبہ افراد، افسران کے نام بھی پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کروا دئیے گئے ۔نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کی 20 ایکڑ زمین فراڈ سے آﺅٹ سائیڈرز کو بیچ دی گئی۔
لیاری ایکسپریس وے سیٹلمنٹ وفاق اور سندھ کا مشترکہ منصوبہ تھا جس میں وفاقی حکومت نے 67 فیصد اور صوبائی حکومت نے 33 فیصد حصہ ڈالنا تھا۔ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم نے منصوبے میں 8 ارب روپے کی بے ضابطگیوں پر الگ انکوائری کی سفارش بھی کی ہے۔یاد رہے کہ لیاری ایکسپریس وے ری سٹیلمنٹ منصوبہ ڈھائی لاکھ رہائشیوں کی دوبارہ آبادکاری کا منصوبہ تھا، سال 2001 سے لیاری ایکسپریس وے ری سیٹلمنٹ منصوبہ چلا آ رہا ہے۔