لاہور(نیوز ڈیسک )وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کےلئے خصوصی مراعاتی پیکج کا اعلان کردیا اور صوبے میں جدید گرین انڈسٹریل اکنامک زون کے قیام کے منصوبے کی اصولی منظوری دیتے ہوئے اس پر عملدرآمد کےلئے جامع ایکشن پلان طلب کر لیا ۔
یہ فیصلہ وزیراعلی پنجاب سے اوورسیز پاکستانیز ﺅ فانڈیشن (او پی ایف )کے وفد کی اہم ملاقات کے دوران سامنے آیا، جس میں چیئرمین او پی ایف سید قمر رضا نے گرین انڈسٹریل اکنامک زون کے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی، وفد نے او پی ایف اور گرین انرجی گروپ کے اشتراک سے پنجاب میں عالمی معیار کا گرین اکنامک زون قائم کرنے کی تجویز پیش کی، جس کا مقصد صاف توانائی، صنعتی ترقی، برآمدات اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔بریفنگ کے مطابق مجوزہ گرین اکنامک زون میں سولر، ونڈ، ہائیڈرو، گرانڈ سورس انرجی، بیٹری اسٹوریج اور ایچ وی او بیک اپ سسٹمز پر مشتمل جدید کلین انرجی انفراسٹرکچر قائم کیا جائے گا، جس سے صنعتوں کو ماحول دوست اور پائیدار توانائی میسر آئے گی۔
منصوبے کے تحت 18 ہزار سے زائد براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے، سالانہ 5.6 ارب روپے سے زائد آمدن حاصل ہونے اور ماحول دوست مصنوعات کی برآمدات کے ذریعے قومی جی ڈی پی میں تقریبا 1.5 فیصد تک اضافے کی توقع ظاہر کی گئی، منصوبے سے کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی اور پاکستان کے نیٹ زیرو اہداف کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب ہر قسم کی سرمایہ کاری کےلئے مکمل طور پر تیار ہے اور حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی، انہوں نے کہا کہ صوبے میں نئی صنعتوں اور کاروبار کے آغاز کے لئے زیرو ٹائم ٹو سٹارٹ پالیسی نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کےلئے ون ونڈو آپریشن کے تحت تمام این او سیز کی فوری فراہمی کا موثر نظام بھی قائم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں انتظامی اور بیوروکریٹک رکاوٹوں سے پاک، محفوظ اور سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کر سکیں۔وزیراعلی کا کہنا تھا کہ حکومت کا وژن پنجاب کو جدید گرین انڈسٹری، صاف توانائی اور عالمی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بنانا ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔