اسلام آباد(نیوز ڈیسک )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں چیئرمین کمیٹی سیف اللہ ابڑو نے کہاکہ شام تک رپورٹ دی جائے کہ کس سینیٹر کے سگریٹ ہیں،کسی کے اکاﺅ نٹ میں 90ارب آئیں تو ایف بی آر آنکھیں بند کر لیتا ہے،سینیٹرز کی پگڑی کیوں اچھالی جاتی ہے، ایسا نہیں چلے گا۔
سیف اللہ ابڑو کی زیرصدارت سینیٹ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا،اجلاس میں سگریٹ سمگلنگ کے معامے پر ارکان میں بحث ہوئی۔چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ ایک سینیٹر کے رشتہ داروں کا نام لیا گیا کہ ان کے سگریٹ پکڑے گئے،ممبر کسٹمز نے کہاکہ پکڑے گئے ٹرک ہمارے پاس موجود ہیں،موٹروے پولیس کو اطلاع ہم نے دی تھی،سینیٹر طلحہ محمود نے کہا یہ معاملہ کسٹمز کے دائرہ کار میں نہیں آتا، ممبر کسٹمز نے کہا کہ ممکن ہے مال افغانستان سے آیا ہو، سینیٹر طلحہ محمود نے کہاکہ مال افغانستان سے کیسے آ سکتا ہے، بارڈر تو بند ہے، ممبر کسٹمز نے کہاکہ ہم نے جو مقدمہ درج کیا ہے اس میں کسی کا نام درج نہیں ۔
سینیٹر طلحہ محمود نے کہاکہ سمگلنگ کا مال تھا تو پاکستان کیسے داخل ہوا، یہ کسٹمز نہیں ، سیلز کا معاملہ ہے،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایف آئی اے کو معاملے پر ایکشن لینا ہوگا، ایف بی آر اور موٹروے پولیس کے بیانات قلمبند کریں،شام تک رپورٹ دی جائے کہ کس سینیٹر کے سگریٹ ہیں،کسی کے اکاﺅنٹ میں 90ارب آئیں تو ایف بی آر آنکھیں بند کر لیتا ہے،سینیٹرز کی پگڑی کیوں اچھالی جاتی ہے، ایسا نہیں چلے گا، کسٹمز نے ابھی تک تفصیلی رپورٹ پیش نہیں کی،کسٹمز ڈیپارٹمنٹ نے ایک ہفتے کا وقت مانگا، 14روز گزر گئے۔
طلحہ محمود نے کہا کہ کنزمپشن سرٹیفکیٹ کیلئے 25کروڑ روپے رشوت لی جارہی ہے،تحقیقات کرنی ہوں گی کنزمپشنزسرٹیفکیٹ کب سے جاری ہوئے،چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ حقائق چھپانے کی ضرورت نہیں، اب رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ موجود ہے۔