وزیراعظم شہبازشریف

عوام کو ایندھن کی بلاتعطل فراہمی اور منصفانہ قیمتوں کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ عوام کو ایندھن کی بلاتعطل فراہمی اور منصفانہ قیمتوں کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، ایف بی آر کے جدید ٹریکنگ نظام کو ماڈل بنا کر ملک میں ایندھن کی آمدورفت کی کڑی نگرانی کا نظام وضع کیا جائے،جدید ٹیکنالوجی و سافٹ وئیر کے استعمال کے اطلاق سے بندرگاہوں و ریفائینریوں سے پٹرول پمپس تک سپلائی چین کی ڈیجیٹل نگرانی کی جائے،اوگرا کے استعداد اضافے کیلئے نجی شعبے سے اچھی شہرت کے ماہرین تعینات کیے جائیں،اوگرا کی نتظیم نو کرکے ہر شعبے اور منصب کیلئے ماہرین کی میرٹ پر شفاف طریقہ کار سے تعیناتی کی جائے،تمام ریگولیٹری اداروں کا اپنے متعلقہ وزارتوں سے باضابطہ رابطہ قائم کرنے کیلئے ضروری اقدامات لئے جائیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت جمعہ کو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی اصلاحات اور ادارہ جاتی استعداد میں بہتری کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا تمام اداروں میں یکساں طور پر نفاذ یقینی بنایا جائے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ایف بی آر کے جدید ٹریکنگ نظام کو ماڈل بنا کر ملک میں ایندھن کی آمدورفت کی کڑی نگرانی کا نظام وضع کیا جائے۔انہوںنے کہاکہ جدید ٹیکنالوجی و سافٹ وئیر کے استعمال کے اطلاق سے بندرگاہوں و ریفائینریوں سے پٹرول پمپس تک سپلائی چین کی ڈیجیٹل نگرانی کی جائے۔ شہبازشریف نے کہاکہ اوگرا کے استعداد اضافے کیلئے نجی شعبے سے اچھی شہرت کے ماہرین تعینات کیے جائیں،اوگرا کی نتظیم نو کرکے ہر شعبے اور منصب کیلئے ماہرین کی میرٹ پر شفاف طریقہ کار سے تعیناتی کی جائے۔

شہبازشریف نے کہاکہ اوگرا کی اصلاحات و تنظیمِ نو کیلئے حکومت ہر قسم کے پیشہ ورانہ مہارت فراہم کرے گی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ حکومت عوام کی ایک ایک پائی کا تحفظ کرے گی، کسی کو عوام کے استحصال اور سسٹم میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔ شہبازشریف نے کہاکہ تمام ریگولیٹری اداروں کا اپنے متعلقہ وزارتوں سے باضابطہ رابطہ قائم کرنے کیلئے ضروری اقدامات لئے جائیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ منظور شدہ پالیسی کے تحت ملک میں قائم آئل ریفائنریوں کی اپگریڈ یشن پر کام تیز کیا جائے ۔اجلاس میں چیئرمین اوگرا نے ادارے کی موجودہ کارکردگی، درپیش چیلنجز اور جامع اصلاحاتی پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی۔۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اوگرا نے تیل کی سپلائیـچین کو بندرگاہ سے پٹرول پمپ تک ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مانیٹر کرنے کے لیے اہم پیش رفت کی ہے۔

قومی مانیٹرنگ ڈیش بورڈ، ٹینکر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم، ڈپو ـ ٹینک ٹیلی میٹری، راہگزر موبائل ایپ، پٹرول پمپس پر ڈیجیٹل سیلز انٹری سسٹم اور مرکزی مانیٹرنگ سیل جیسے متعدد ڈیجیٹل نظام فعال کیے جا چکے ہیں، جن کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت، ذخائر اور فروخت کی مؤثر نگرانی ممکن بنائی جا رہی ہے۔۔وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ جولائی 2026 کے دوران ڈیٹا پر مبنی خصوصی مہم کے نتیجے میں ذخیرہ اندوزی، سپلائی میں غیر ضروری رکاوٹوں اور دیگر خلاف ورزیوں کے متعدد واقعات کی نشاندہی کی گئی، جن پر شوکاز نوٹسز، وضاحت طلبی اور دیگر قانونی کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔

اجلاس میں اوگرا کے جامع اصلاحاتی پروگرام پر بھی بریفنگ دی گئی، جس میں ادارے کی ڈیجیٹلائزیشن، انفورسمنٹ نظام کی ازسرِنو تشکیل، کمپلائنس ونگ کے قیام، لائسنسنگ نظام میں اصلاحات، قانونی امور کے مؤثر انتظام، مالی وسائل کی مضبوطی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی تنظیمِ نو شامل ہے۔وزیراعظم نے اوگرا کی جانب سے پیش کیے گئے اصلاحاتی پروگرام کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ تیل و گیس کے شعبے میں مکمل شفافیت، مؤثر نگرانی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خاتمے کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام کو جلد از جلد مکمل طور پر فعال بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ایندھن کی بلاتعطل فراہمی اور منصفانہ قیمتوں کی یقینی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے کسی قسم کی غفلت یا بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ اوگرا کی اصلاحات اور ادارہ جاتی استعداد میں اضافے کے لیے درکار قانونی، انتظامی اور پالیسی اقدامات پر ترجیحی بنیادوں پر پیش رفت یقینی بنائی جائے تاکہ ریگولیٹری نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، معاون خصوصی طارق باجوہ اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔
٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں