تہران،واشنگٹن(انٹرنیشنل نیوز )ایرانی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ امریکا نے ایل پی جی ٹینکر کو میزائلوں سے نشانہ بنایا، امریکا نے ٹینکر کو ایرانی گیس لے جانے والا جہاز سمجھ کر حملہ کیا۔ایرانی خبر رساںادارے کا کہنا ہے کہ امریکی حملے میں ایل پی جی ٹینکر کے عملے کے 2 افراد جاںبحق ہوگئے۔دوسری جانب امریکی فوج نے بحیرہ عمان میں ایک آئل ٹینکر پر حملے کے بارے میں مزید تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاز نے نشانہ بنائے جانے سے قبل کم از کم چار مرتبہ امریکی کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی تھی۔
امریکی مرکزی کمان (سینٹ کام) کے ترجمان ٹِم ہاکنز نے غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ ٹینکر کے عملے کو کئی بار خبردار کیا گیا تھا، تاہم انھوں نے ہدایات پر عمل نہیں کیا۔انھوں نے کہا کہ اس کے بعد موقع پر موجود امریکی افواج نے جہاز کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے اس کے انجن روم کو نشانہ بنایا۔سینٹکام کے ترجمان نے مزید کہا کہ یہ ٹینکر اب ایران کی جانب نہیں جا رہا۔اس سے قبل ایک امریکی عہدیدار نے برطانوی خبررساںادارے کو بتایا تھا کہ امریکی افواج نے خلیجِ عمان میں ایم ٹی لاوِن نامی آئل ٹینکر کو نشانہ بنا کر اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
عہدیدار کے مطابق یہ جہاز ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ امریکی افواج نے ایم ٹی لاوِن ٹینکر کو اس وقت نشانہ بنایا جب اس نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی کو عبور کرنے کی کوشش کی۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے خبر دی تھی کہ بحیرہ عمان میں مائع قدرتی گیس لے جانے والے ایک آئل ٹینکر پر امریکی میزائل حملے میں عملے کے دو ارکان ہلاک ہوئے ہیں جبکہ جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچا۔
فارس نیوز ایجنسی نے یہ دعوی بھی کیا کہ امریکہ کو شبہ تھا کہ یہ ٹینکر ایران سے گیس لے جا رہا تھا۔فارس نیوز کی خبر میں جہاز کا نام نہیں بتایا گیا، تاہم ایک امریکی عہدیدار کی جانب سے روئٹرز کو فراہم کی جانے والی نئی تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں رپورٹس غالبا ایک ہی واقعے سے متعلق ہیں۔امریکی فوج نے تاحال حملے میں ہونے والی ممکنہ ہلاکتوں یا استعمال کیے گئے ہتھیار کی نوعیت کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔دریں اثنا اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور نائب مستقل نمائندے غلام حسین درزی نے سلامتی کونسل کو لکھے گئے ایک خط میں ناجی-15 اور ناجی-16 نامی جہازوں پر امریکی حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین اور کھلی خلاف ورزی اور جنگی جرم کی مثال قرار دیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق غلام حسین درزی کا کہنا ہے کہ جب ان دونوں جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تو وہ کسی بھی قسم کی فوجی سرگرمی میں ملوث نہیں تھے اور ان پر جان بوجھ کر حملہ کیا گیا۔امریکہ نے ابھی تک اس الزام یا اس دعوے پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔