امریکی صدر

حزب اللہ سے براہِ راست مذاکرات کےلئے تیار ہوں، صدر ٹرمپ

واشنگٹن(انٹرنیشنل نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ حزب اللہ سے بھی براہِ راست بات چیت کےلئے تیار ہیں، انہوں نے ایران کے اردن میں حملے کی کامیابی کا اعتراف کرتے ہوئے دعوی کیا کہ تہران جنگ کے خاتمے کےلئے بے چین ہے اور مذاکرات کا خواہاں ہے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاﺅ س میں لبنان کے صدر جوزف عون کے ہمراہ مشترکہ گفتگو کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج ایران کی عسکری صلاحیتوں کو اس سطح پر کمزور کر رہی ہے جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔انہوں نے اعتراف کیا کہ ایران اردن میں حملہ کرنے میں کامیاب رہا۔ ٹرمپ کے مطابق اگر وہاں دوسرے آپریٹرز موجود ہوتے تو یہ حملہ کامیاب نہ ہوتا، تاہم انہوں نے واضح نہیں کیا کہ ان کی مراد کن آپریٹرز سے تھی۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران پس پردہ جنگ کے خاتمے کےلئے مذاکرات کرنا چاہتا ہے، لیکن امریکا اس وقت تک کسی ملاقات میں دل چسپی نہیں رکھتا جب تک تہران بامعنی مذاکرات کے لیے تیار نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران شدید دبا کا شکار ہے اور اسی وجہ سے مذاکرات کےلئے بے تاب ہے۔ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر لبنان کے صدر درخواست کریں تو وہ حزب اللہ سے بھی براہ راست بات چیت کےلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسے لوگوں سے بھی گفتگو کرتے ہیں جن سے اکثر لوگ بات کرنے کے حق میں نہیں ہوتے، کیونکہ بعض اوقات اسی سے مسائل کا حل نکلتا ہے۔لبنان سے متعلق گفتگو میں امریکی صدر نے دعوی کیا کہ اسرائیل جنوبی لبنان کے بعض علاقوں سے اپنی افواج کی دوبارہ تعیناتی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے مکمل انخلا کےلئے کسی حتمی ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنانی فوج پر فائرنگ کے ایک واقعے سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں گے۔بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے ممکنہ ناکا بندی کے خدشات پر امریکی صدر نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو امریکا اس صورتِ حال سے نمٹنا جانتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی امریکا حوثیوں کے خلاف کارروائی کر چکا ہے اور اس کے بعد وہ خاموش رہے۔صدرٹرمپ نے امریکا میں منعقدہ فیفا ورلڈ کپ کو تاریخ کا کامیاب ترین ٹورنامنٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران کوئی بڑا احتجاج نہیں ہوا اور پورا ملک کئی ہفتوں تک غیر معمولی اتحاد کا مظاہرہ کرتا رہا۔لبنان کے صدر جوزف عون نے ملاقات کے دوران ٹرمپ کو عظیم صدر قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی، جس پر امریکی صدر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اب یہ جو بھی مانگیں گے، انہیں سب کچھ مل سکتا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی فوج نے تصدیق کی تھی کہ اردن میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملے کے نتیجے میں دو امریکی اہلکار ہلاک جب کہ چار دیگر اہلکار زخمی ہونے کے بعد طبی بنیادوں پر منتقل کیے گئے تھے۔ دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان کیلئے براہ راست امریکی پروازیں بحال کرنے کی منظوری دے دی ہے، یہ پروازیں کئی دہائیوں سے معطل تھیں۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ لبنان کے صدر جوزف عون سے ملاقات کے بعد انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ تمام امریکی ایئر لائنز کو لبنان کیلئے براہ راست پروازوں کی اجازت دی جائے تاکہ امریکی شہری آسانی سے اس خوبصورت ملک کا سفر کر سکیں۔لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام لبنان اور امریکا کے درمیان سفری سہولیات اور روابط کو بہتر بنانے کا ایک اہم موقع فراہم کرے گا اور اس سے لبنانی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں